تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 396
حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ۰۰۱۰۰لَعَلِّيْۤ اور اُس وقت جب اُن میں سے کسی کی موت آجائے گی وہ کہے گا اے میرے رب ! مجھے واپس لوٹا دے اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ مجھے واپس لوٹا دے تاکہ میں اس جگہ جس کو میں چھوڑ کر آگیا ہوں (یعنی دنیا میں) مناسب حال عمل کروں ہر گز وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۰۰۱۰۱ ایسا نہیں ہوگا۔یہ صرف ایک منہ کی بات ہے جسے وہ کہہ رہے ہیں اور ان کے پیچھے ایک پردہ ہے اُس دن تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے (پس وہ دنیا کی طرف زندہ کرکے کبھی لوٹائے نہیں جائیں گے)۔تفسیر۔ان آیات میں بتا یا گیا ہے کہ جب مشرک کی تباہی کا وقت آتا ہے تو اُس وقت وہ اپنے بتوں کو بالکل بھول جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے عجز اور انکسار کے ساتھ اُس سے دعائیںکر نے لگ جاتا ہے۔یہ ایک نہایت ہی لطیف آیت ہے جس میں مختصر الفاظ میں وسیع معنوں کو ادا کیا گیا ہے۔اس میں کافر کے منہ سے ایک تورب کا لفظ کہلایا گیا ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اُس وقت وہ خدا تعالیٰ کی توحید کا کھلے بندوں اقرار کرے گا اور دوسری طرف ارْجِعُوْنِکہہ کر جو جمع کا صیغہ ہے اور جس کے معنے یہ ہیں کہ’’ مجھے لوٹا دیں‘‘ خدا تعالیٰ کی عظمت اور تمام کمالات کے جامع ہونے کا اُس کے مونہہ سے اقرار کروایا گیا ہے۔پھر ارْجِعُوْنِکہہ کر اللہ تعالیٰ نے کفار کی حیرت اور اُن کی گھبراہٹ کو بھی ظاہر کر دیا ہے کیونکہ جمع کا لفظ استعمال کرکے اس میں یہ بتا یا گیا ہے کہ کافر اس وقت گھبرا کر کہے گا اے میرے خدا مجھے لوٹا دے اے میرے خدا مجھے لوٹا دے ، اے میرے خدا مجھے لوٹا دے۔گو یاارْجِعُوْنِدراصل اَرْجِعْنِیْ اَرْجِعْنِیْ اَرْجِعْنِیْ کاقائم مقام ہے کیونکہ عربی زبان میں جمع کا صیغہ جب مفرد کے لئے استعمال کیا جائے تو بعض دفعہ تکرار کے معنے دیتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے ایک ہی لفظ میں کفار کی حیرت کا بھی ذکر کر دیا اور حالتِ گھبراہٹ میںاُن کا اپنی درخواست کو بار بار اور جلدی جلدی پیش کرنا بھی بیان کر دیا۔پھرلَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا کے الفاظ میں اور بھی عظمت الہٰی کا ذکر کیا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ اُس وقت کافر پر