تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 395
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِۙ۰۰۹۸ اور تو کہہ دے اے میرے رب ! میں سرکش لوگوں کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔اور اے میرے رب! وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ۰۰۹۹ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے (بھی )کہ وہ میرے سامنے آجائیں۔حلّ لُغَات۔ھَمَزٰت اَلْھمَزُ: اَلْعَصْرُ۔ھمز کے معنے نچوڑنے کے ہیں ( مفردات ) چنانچہ ھَمَزَ رَأ سَہٗ کے معنے ہوتے ہیں عَصَرَہٗ اُس کے سر کو سختی کے ساتھ دبایا ( اقرب ) اور ھَمَزَ الشَّیْطٰنُ الْاِنْسَانَ کے معنے ہوتے ہیں ھَمَسَ فِیْ قَلْبِہٖ وَسْوَ اسًا۔اس کے دل میں وسوسہ ڈالا (اقرب) تفسیر۔اس جگہ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ میں کسی شیطانی وسوسہ کا ذکر نہیں بلکہ یہاں ان دشمنوں کو شیاطین کہا گیا ہے جو اسلام کے مخالف تھے اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف قسم کی تکا لیف پہنچاتے رہتے تھے چنانچہ ھَمْز کے ایک معنے نچوڑنے یعنی تکلیف دینے کے بھی ہوتے ہیں۔اور ھَمَزْتُ الشَّیْءَ فِیْ کَفِّیْ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ میں نے فلاں چیز کو اپنے ہاتھ میں دبا کر نچوڑ ڈالا ( مفردات امام راغب ؒ )پس رَبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ۔وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا مجھے شیطان کے چیلوں کے اُن حملوں سے بچائیو جو مجھے کچل ڈالنے کے لئے اُس کی طرف سے ہو رہے ہیں بلکہ میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ مجھ پر غالب آنا تو الگ رہا وہ میرے قریب بھی نہ پھٹک سکیں یعنی وہ مجھے کسی قسم کی تکلیف نہ دے سکیں۔چنانچہ اس سے اگلی آیتحَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ۔لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ بھی انہی معنوں پر دلالت کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس جگہ کسی شیطانی وسوسہ کا ذکر نہیں بلکہ اُن انسان شیاطین کا ذکر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف پہنچاتے تھے ورنہ اگلی پچھلی عبارت سب بے جوڑ ہو جاتی ہے۔