تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 368

اسلامی وفد کے سردار کو آگے بلایا اور کہا چونکہ تم نے میری پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے اس لئے اب اس مٹی کے بورے کے سوا تمہیں اور کچھ نہیں مل سکتا۔وہ صحابی ؓ نہایت سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھے انہوں نے اپنا سر جھکا دیا اور مٹی کو بورا اپنی پیٹھ پر اٹھا لیا پھر انہوں نے ایک چھلانگ لگائی اور تیزی کے ساتھ اس کے دربار سے نکل کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو بلند آواز سے کہا آج ایران کے بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ملک کی زمین ہمارے حوالے کر دی ہے اور پھر گھوڑوں پر سوار ہو کر تیزی سے نکل گئے۔بادشا ہ نے جب اُن کایہ نعرہ سنا تو وہ کانپ اُٹھا اور اُس نے اپنے درباریوں سے کہا دوڑو اور مٹی کا بورا اُن سے واپس لے آئو۔یہ تو بڑی بد شگونی ہوئی کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے ملک کی مٹی اُن کے حوالے کر دی ہے مگر وہ اُس وقت تک گھوڑوں پر سوار ہو کر بہت دُور نکل چکے تھے۔لیکن آخر وہی ہو ا جو انہوں نے کہا تھا اور چند سال کے اندر اندر سارا ایران مسلمانوں کے ماتحت آگیا (محاضرات تاریخ الامم الاسلامیۃ جلد ۱ صفحہ ۲۰۳ تا ۲۰۹، مقدمۃ تاریخ ابن خلدون اخبار القادسیةجلد ۲ صفحہ ۹۱ تا ۹۴ ) یہ عظیم الشان تغیر مسلمانوں میں کیوں پیدا ہو ا؟ اسی لئے کہ قرآنی تعلیم نے اُن کے اخلاق اور اُن کی عادات میں ایک انقلاب پیدا کر دیا تھا۔اُن کی سفلی زندگی پر اُس نے ایک موت طاری کر دی تھی اور انہیں بلند کردار اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی سطح پرلا کر کھڑا کر دیا تھا۔حضرت عمر ؓ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ حج کے لئے گئے تو راستہ میں ایک مقام پر کھڑے ہو گئے۔اس وقت دھوپ چمک رہی تھی اور پسینہ بہ رہا تھا مگر آپ وہاں بڑی دیر تک کھڑے رہے۔اس وقت کسی کو اتنی جرأت نہ ہوئی کہ وہ آگے بڑھ کر آپ سے کچھ عرض کر سکے مگر جب زیادہ دیر ہو گئی تو ایک صحابی ؓ جو حضرت عمر ؓ کے بڑے دوست تھے لوگوں نے اُن سے کہا کہ آپ حضرت عمر ؓ سے پوچھیں کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔انہوں نے جرأت کی اور آگے بڑھ کر حضرت عمر ؓ سے دریافت کیا کہ حضور یہاں کیوں کھڑے ہیں سخت گرمی کا وقت ہے اور لوگ تکلیف محسوس کر رہے ہیں حضرت عمر ؓ نے فرمایا۔میں یہاں اس لئے کھڑا ہو ں کہ ایک دفعہ میں اونٹ چرانے کی وجہ سے تھک کر اس درخت کے نیچے تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گیا تھا کہ اچانک میرا باپ آگیا اور اس نے مجھے مارا کہ کیا میں نے تجھے اس لئے بھیجا تھا کہ تو جا کر سو رہے اور اونٹوں کا خیال چھوڑ دے۔آج جب میں یہاں سے گذرا تو میرے دل میں خیال آیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے کتنا اعزاز بخشا کہ آج لاکھوں آدمی میرے پسینہ کی جگہ اپنا خون بہانے کے لئے تیار ہیں حالانکہ میں وہی ہوں جو اکیلا اس جنگل میں اونٹ چرایا کرتا تھا اور جسے باپ نے اس لئے مارا کہ میں تھوڑی دیر کے لئے سو کیوں گیا تھا۔حضرت ابو بکر ؓ کو دیکھ لو آپ مکہ کے ایک معمولی تاجر تھے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوتے