تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 367

غرض قرآن کریم نے مسلمانوںکو اس قدر شرف بخشا اور اس قدر بزرگی دی کہ وہ دنیا کے معّلم اور راہنما بن گئے۔حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں جب خسرو پرویز کے پوتے یزد جرد کی تخت نشینی کے بعد عراق میں مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانہ پر جنگی تیاریاں شروع ہو گئیں تو حضرت عمرؓ نے اُن کے مقابلہ کے لئے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی سر کردگی میں ایک لشکر روانہ کیا۔حضرت سعد ؓ نے جنگ کے لئے قادسیہ کا میدان منتخب کیا اور حضرت عمر ؓ کو اُس مقام کا نقشہ بھجوا دیا۔حضرت عمر ؓ نے اس مقام کو بہت پسند کیا مگر ساتھ ہی لکھا کہ پیشتر اس کے کہ شاہِ ایران کے ساتھ جنگ کی جائے تمہارا فرض ہے کہ ایک نمائندہ وفد شاہِ ایران کے پاس بھیجو اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دو۔چنانچہ انہوں نے اس حکم کے ملنے پر ایک وفد یزد جرد کی ملاقات کے لئے بھجوا دیا۔جب یہ وفد شاہِ ایران کے دربار میں پہنچا تو شاہ ِایران نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے پوچھو کہ یہ کیوں آئے ہیں اور انہوں نے ہمارے ملک میں کیوں فساد بر پا کر رکھا ہے۔جب اُس نے یہ سوال کیا تو وفد کے رئیس حضرت نعمان بن مقرنؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے بتا یا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اسلام کو پھیلائیں اور دُنیا کے تمام لوگوں کو دین حق میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔اس حکم کے مطابق ہم آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے ہیں اور آپ کو اسلام میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔یزد جرد اس جواب سے بہت برہم ہوا اور کہنے لگا کہ تم ایک وحشی اور مُردار خوار قوم ہو۔تمہیں اگر بھوک اور افلاس نے اس حملہ کے لئے مجبور کیا ہے تو میں تم سب کو اس قدر کھانے پینے کا سامان دینے کے لئے تیار ہوں کہ تم اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکو اسی طرح تمہیں پہننے کے لئے لبا س بھی دوںگا۔تم یہ چیزیں لو اور اپنے ملک کو واپس چلے جائو تم ہم سے جنگ کرکے اپنی جانوں کو کیوں ضائع کرنا چاہتے ہو۔جب وہ بات ختم کر چکا تو اسلامی وفد کی طرف سے حضرت مغیرہ بن زرارہ ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا۔آپ نے ہمارے متعلق جو کچھ بیان کیا ہے یہ بالکل درست ہے۔ہم واقعہ میں ایک وحشی اور مُردار خوار قوم تھے۔سانپ اور بچّھو اور ٹڈیاں اور چھپکلیاں تک کھا جاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل کیااور اُس نے اپنا رسول ہماری ہدایت کے لئے بھیجا۔ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اُس کی باتوں پر عمل کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ہم میں ایک انقلاب پیدا ہو چکا ہےاوراب ہم میں وہ خرابیاںموجود نہیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے۔اب ہم کسی لالچ میں آنے کے لئے تیار نہیں۔ہماری آپ سے جنگ شروع ہو چکی ہے۔اب اس کا فیصلہ میدانِ جنگ میں ہی ہو گا۔دنیوی مال و متاع کا لالچ ہمیں اپنے ارادہ سے باز نہیں رکھ سکتا۔یز د جرد نے یہ بات سنی تو اُسے سخت غصّہ آیا اور اُس نے ایک نوکر سے کہا کہ جائو اور مٹی کا ایک بورا لے آئو۔مٹی کا بورا آیا تو اس نے