تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 33
المغازی باب مرض النبی و وفاتہ )۔باقی امتیں بے شک اپنے نبیوں کی قبروں پر سجدے کریں یاان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھائیں تمہار اکام یہی ہونا چاہیے کہ تم خدائے واحد کے آستانہ پر جھکو اور اس کو اپنا ملجاء و ماویٰ سمجھو۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر غرغرئہ موت کے وقت جو آخری الفاظ جاری ہوئے وہ بھی یہی تھے کہ اِلٰی الرَّفِیْقِ الْاَعْلیٰ اِلٰی الرَّفِیْقِ الْاَعْلیٰ میں ا ب عرش معلی پربیٹھنے والے مہربان دوست کی طرف جاتاہوں۔یہ آخری الفاظ تھے جس کے بعد آپ کی روح جسد اطہر سے پرواز کر گئی اور آپ اپنے خدا کے حضور جاپہنچے۔غرض ایک ایک قدم اور ایک ایک سانس پررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس رنگ میںاللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے جلال کا اظہار کیا ہے اور جس طرح اپنے عشق اور محبت کاثبوت دیا ہے اس کی مثال دنیاکے اور کسی نبی میں دکھائی نہیںدیتی۔وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ اور (یہ لوگ) کہتے ہیںکہ رحمٰن( خدا)نے بیٹا بنالیاہے (ان کی بات درست نہیں)وہ تو ہرکمزوری سے پاک ہے مُّكْرَمُوْنَۙ۰۰۲۷ حقیقت یہ ہے کہ (جن کو یہ بیٹاکہتے ہیں)وہ خداکے کچھ بندے ہیںجن کو( خدا کی طرف سے) عزت ملی ہے۔حلّ لُغَات۔سُبْحَانَہُ۔سُبْحَانَ اللہِ کے معنے ہیں اُبَرِّیءُ اللہَ مِنَ السُّوْءِ بَرَاءَ ۃً میں اللہ تعالیٰ کی ہر برائی سے برا ء ت کرتاہوں (اقرب ) پس سُبْحَانَہٗ کے معنے ہوںگے میںاللہ تعالیٰ کو لڑکابنانے سے پاک قرار دیتاہوں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ لوگ جھوٹ بول کر کہتے ہیںکہ رحمٰن خدا نے اپنا ایک بیٹا بنالیا ہے حالانکہ سب پہلے نبیوں کے حالات پرغور کرکے دیکھ لو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم بندے ہیں صرف خدا نے ہم کوعزت بخشی ہے چنانچہ مسیح ؑجس کو خدا کا بیٹا قرار دیاگیاہے ہمیشہ اپنے آپ کو ابن آدم کہتارہا (متی باب ۱۱۲ ٓیت ۸)۔اب جو شخص خدا کا بیٹا تھا اگر وہ اپنے آپ کوابن آدم کہتاتھا تو کیانعوذباللہ اس کے یہ معنے نہیںکہ وہ اپنے باپ کے سوا اپنے آپ کو دوسرے کی طرف منسوب کرتاتھایہ کتنابڑا الزام ہے جو عیسائی لوگ خدا تعالیٰ کے ایک معزز بندہ پرلگاتے ہیں۔