تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 354
کو اس بات کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہدایت دے اُن تمام اُمور کو قرآ ن کریم میں بیان کردیا گیا ہے۔کسی کو بالتفصیل اور کسی کو بالاجمال اور اس کا نتیجہ یہ بیان فرمایا ہے کہ میں نے اپنا انعام تم پر مکمل کر دیا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دربار لگائے بیٹھے تھے اور عیسائی اور یہودی بھی وہاں موجود تھے کیونکہ وہ سب آپ کی رعایا بن چکے تھے کہ آپ نے اس آیت کا ذکر کیا۔ایک یہودی یہ آیت سُن کر کہنے لگا کہ اگر ہم پر ایسی آیت نازل ہوتی تو ہم اسے اپنے لئے عید کا دن قرار دے لیتے۔حضرت عمر ؓ نے فرمایاتمہیں معلوم نہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو وہ جمعہ کا دن تھا اور حجۃ الوداع کا موقعہ تھا اور یہ دونوں ہمارے لئے عید کا دن تھے۔تم تو کہتے ہو کہ ہم اس آیت کے نازل ہونے پر آپ عید مقرر کرتے۔مگر ہم نے یہ عید خود تجویز نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود ایک ایسے د ن اس آیت کو اتارا جس میں ہمارے لئے دو عیدیں جمع تھیں یعنی جمعہ کا د ن بھی تھا اور حج کا بھی موقعہ تھا (بخاری کتاب التفسیر سورۃ المائدۃ )۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت کے ساتھ یہ امر بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے۔اب مسلمانوں کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جس کو پورا کرنے کا سامان انہیں باہر سے لانا پڑے۔سارے احکام قرآن کریم میں بیان کر دئیے گئے ہیں اور ساری برکت ان احکام پر عمل کرنے میں ہے کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں کو کوئی ضرورت ہو اور وہ انہیں باہر سے پُوری کرنی پڑے۔اسی مضمون کی مزید وضاحت سورۂ مائدہ کی ان آیات میں بھی کی گئی ہےکہ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۔وَ اَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّصِيْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ۔اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِيَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔(المائدۃ :۴۹ تا ۵۲)یعنی ہم نے تمہاری طرف ایک کامل کتاب نازل کی ہے اور اُس کے ساتھ ہر قسم کی ثابت شدہ حقیقتیں نہایت کھول کر بیان کر دی ہیں اور جو الہامی کتب اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں یہ کتاب اُن کی پیشگوئیوں کو پُورا کرنے والی اور اُن کی اعلیٰ تعلیموں کو محفوظ رکھنے والی ہے۔پس جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اُتارا ہے