تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 316
دیا یا دنیوی ترقی کے قوانین کو نظر انداز کر دیا تھا۔دینی احکام کو نظر انداز کر دینے کے نتیجہ میں وہ شرعی عذاب کے مستحق ہوئے اور قوانین نیچر کے نظر انداز کر دینے کے نتیجہ میں وہ مختلف قسم کے طبعی عذابوں کا شکار ہوئے۔مگر اللہ تعالیٰ کے بے مثال رحم کا یہ ثبوت ہے کہ باوجود لوگوں کے ظالم ہو جانے کے آج تک کوئی قوم بھی اُس وقت تک ہلاک نہیں ہوئی جب تک خدا تعالیٰ نے اپنے کسی رسول کے ذریعہ اُن پر حجت تمام نہ کر دی ہو۔اور انہیں ان کی غلطیوں پر متنبہ نہ کر دیا ہو۔جس طرح نوح ؑ کی قوم کو رات اور دن نصیحت کی گئی مگر و ہ اپنی نافرمانیوں سے باز نہ آئے اور آخراُن کی صف لپیٹ دی گئی۔فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔فرماتا ہے تمہیں دشمنوں کے ظلموں سے بچا لینا میرا ایک بہت بڑا فضل ہے۔اس لئے جب کشتی مکمل ہوجائے اور تُو اس میں بیٹھ جائے یا تیری جماعت مکمل ہوجائے اور سب سعید روحیں اُس میں داخل ہو جائیں تو اَلْحَمْدُ لِلہِ کہو اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ تمہارا مشن پورا ہو گیا۔بائیبل بتاتی ہے کہ جب طوفان تھم گیا تو حضرت نوح علیہ السلام نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ زمین پر پانی کم ہوا ہے یا نہیں پہلے ایک کوّے کو اُڑایا۔مگر چونکہ ابھی زمین پر پانی تھا۔اس لئے وہ روزانہ کشتی میں واپس آتا رہا۔چند دنوں کے بعد انہوں نے ایک کبوتری اُڑائی مگر اُسے زمین پر کوئی ایسی جگہ نہ ملی جہاں وہ تھوڑی دیر کے لئے بھی بیٹھ سکتی۔اس لئے وہ بھی کشتی میں واپس آگئی۔پھر سات دن اور انتظار کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ اس کبوتری کو اُڑا دیا۔اور جب وہ شام کو واپس آئی تو ’’ زیتون کی ایک تازہ پتی اُس کی چونچ میں تھی تب نوح نے معلوم کیا کہ پانی زمین پر سے کم ہوگیا ہے۔‘‘ ( پیدائش باب ۸ آیت ۱۱) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیتون کی پتی کے ذریعہ حضرت نوح علیہ السلام کو یہ خوشخبری دی گئی تھی کہ تیرے دشمن ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو گئے ہیں۔جیسے سورۂ تین ؔ میں اللہ تعالیٰ نے زیتون کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت میں پیش کیا ہے اور بتا یا ہے کہ بیشک تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وطن سے نکال دو مگر یاد رکھو تم نوح ؑ کے دشمنوں کی طرح تباہ کئے جائو گےاور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیتون کی پتی کے ذریعہ اُ س کی کامیابی اور فتوحات کی خوشخبری دی جائےگی۔چنانچہ تَعْطِیْرُالْاَنَامِ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص رؤیا میں زیتون کے پتے دیکھے تو اُ س کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ وہ عروۂ وثقٰی کو مضبوطی سے پکڑ لےگا(تعطیر الانام زیر لفظ زیتون)۔پس زیتون کے