تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 307
میں آدم کی اطاعت کس طرح کر سکتا ہو ں۔میں تو اس سے بہت بہتر اور افضل ہوں۔میرے اندر حریت اور آزادی کی آگ پائی جاتی ہے اور آدم ؑ غلامانہ ذہنیت کا مالک ہے۔وہ لوگ جو غلامی کو پسند کرتے ہیں اور اپنی حریت کی رُوح کو کچل دینا چاہتے ہیں وہ تو بیشک آدم ؑ کی اطاعت کرلیں مگر میں اس کی اطاعت کرنے کے لئے تیار نہیں۔یہی دعویٰ جو آج کل انار کسٹ کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم دوسروں کی غلامی برداشت نہیں کر سکتے ہم بغاوت کریں گے اور اپنی آزادی کی روح کو برقرار رکھیں گے۔چونکہ دنیا کا نظام اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک باہم مادۂ تعاون نہ پایا جائے اور اعلیٰ حکام کی اطاعت کا جؤا اپنی گردن پر نہ رکھا جائے اس لئے ایسے لوگ جو باغیانہ روح اپنے اندر رکھتے ہیں مذہبی نقطۂ نگاہ سے بھی قابلِ نفرت سمجھے جاتے ہیںاور دنیوی حکومتیں بھی ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے انہیں مختلف قسم کی سزائیں دیتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اس قسم کی حریت کا نعرہ بلند کرنے والوں نے اسلام کی شدید مخالفت کی جن میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اپنے رشتہ دار بھی شامل تھے چنانچہ ابولہب جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک چچا تھا۔اُس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ (اللہب:۲)۔یعنی آگ کے شعلوں کا باپ ہلاک ہو گیا۔اس جگہ اُسے آگ کے شعلوں کا باپ اسی لئے قرار دیا گیا ہے کہ وہ ناری طبیعت رکھنے والے لوگوں کا سردار تھا اور وہ اور اُس کے ساتھی اسی لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے کہ آپ کو مانا تو انہیں اپنی سرداری چھوڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرنی پڑے گی۔اور یہ چیز اُن کے لئے ناقابلِ برداشت تھی۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔نوح علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی توحید کی تعلیم پیش کی تو لوگوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا اور انہوں نے دوسروں کو بھی یہ کہہ کر بہکانا شروع کر دیا کہ یہ تو تمہارے جیسا ایک انسان ہے اس کے اندر کون سی ایسی خصوصیت پائی جاتی ہے جس کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔اس نے جو یہ ساری قوم کے خلاف ایک نئی آواز بلند کرنی شروع کر دی ہے تو اس کا مقصد محض اتنا ہے کہ اس کے نتیجہ میں کچھ لوگ اس کے گرد جمع ہو جائیں اور اس کا جتھا مضبوط ہو جائے اور یہ ہم پر حکومت کرنے لگ جائے۔مگر ہم اس کو کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ہم مٹ جائیں گے مگر اپنی حریت اور آزادی میں کوئی فرق نہیں آنے دیں گے۔پھر انہوں نے اس سے بھی آگے قدم بڑھایا اور کہا کہ اگر آسمان سے فرشتے ہم پرحاکم بنا کر بھیجے جاتے تو ہم مان بھی لیتے لیکن انسان نبی یا انسان خلیفہ کو ہم ماننے کے لئے تیار نہیں۔کیونکہ اس کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ باوجود اس کے کہ شروع سے ہی خدا تعالیٰ کے انبیاء خدائی توحید کاو عظ کرتے چلے آئے ہیں۔اُن کے دشمنوں کا ہمیشہ یہ اعتراض رہا ہے کہ ہدایت