تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 303
مدد کرتا ہے تو اُس کے نتیجہ میں ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم پیدا ہوتی ہے جو دودھ کی طرح رُوحانی انسان کی پرورش کرتی ہےاور گھاس کا فضلہ سب اُس میں سے نکل جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مادی اور رُوحانی عالم کو ایک دوسرے کے مشابہ بنایا ہے جس طرح مادی عالم میں ہمیں یہ قانون دکھائی دیتا ہے کہ زمین اپنی قوتوں کے نشوونما کے لئے آسمانی بارش کی محتاج ہوتی ہے اسی طرح عقل انسانی بھی وحی اور الہام کی بارش کی محتاج ہے۔جس طرح جسمانیات میں ہمیں روزانہ یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ اگر ایک لمبے عرصہ تک بارش نازل نہ ہو تو کنوؤں کے پانی تک خشک ہو جاتے ہیں۔درخت مرجھا جاتے ہیں۔سبزے گل سڑ جاتے ہیں اور باغات اپنے پھل سے محروم ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جب ایک لمبے عرصہ تک آسمانِ روحانی سے وحی و الہام کی بارش نازل نہیں ہوتی تو ارتقاء ِ دماغی بھی بند ہو جاتا ہے اور محض عقل بنی نوع انسان کی کوئی راہنمائی نہیں کر سکتی۔فلسفیوں کی گمراہی اس بات کا نتیجہ ہوتی ہے کہ وہ صرف عقل کو اپنا راہنما سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہم اپنی بہبودی کے لئے خود قوانین تجویز کر سکتے ہیں ہمیں کسی مذہب یا الہام کی ضرورت نہیںحالانکہ اُن کے اس نظریہ کی خود نیچر تردید کر رہا ہے۔زمین اپنے اندر بڑی بھاری طاقتیں رکھتی ہے مگر وہ بارش کی محتاج ہے۔بارش نازل ہوتی ہے تو زمین کے سوتے بھی پُھوٹ پڑتے ہیں۔اُس کی سبزیاں اُگنے لگتی ہیں۔اُس کے درخت لہلہانے لگتے ہیں۔اُس کے پھول اپنی بھینی بھینی خوشبو سے دل ودماغ کو معطر کرنے لگتے ہیں۔اُس کا سبزہ آنکھوں کو طراوت بخشنے لگتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہرچیز میں زندگی کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔یہاںتک کہ فضائے آسمانی میں اُڑنے والے پرندے بھی خوشی سے چہچہانے لگتے ہیں اور لوگ اطمینان اور خوشی کا سانس لینے لگتے ہیں۔وہی لوگ جن کے دل قحط سالی کے خوف سے دھڑک رہے ہوتے ہیں اُن کے چہروںپر بشاشت آجاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بارش نازل کرکے ہمیں تباہ ہونے سے بچا لیا۔جس طرح مادی عالم میں زمین آسمانی بارش کی محتاج ہے۔اسی طرح انسانی عقل وحی و الہام کی محتاج ہے۔گویا جس طرح انسانی آنکھ سورج کی روشنی کے بغیر بے کار ہے۔اسی طرح انسانی عقل اللہ تعالیٰ کے کلام اور اُس کے الہام کے بغیر ایک بے کار چیز ہے۔اگراللہ تعالیٰ کا ہاتھ اُس کی مدد کے لئے آسمان سے نہ اُترے تو وہ کبھی اپنی اُس پیاس کو نہیں بجھا سکتا جو اُس کی فطرت کے اندر ودیعت کی گئی ہے اور جس کے لئے وہ چاروں طرف اپنے ہاتھ پاؤں مارتا دکھائی دے رہا ہے۔یورپ کو دیکھ لواُس نے مادی علوم میں کس قدر ترقی کر لی ہے۔سائینس اپنے معراجِ کمال کو پہنچ چکی ہے اور مذہب کو انسانی زندگی کے لئے ایک بے کار چیز سمجھا جانے لگا ہے۔مگر اُس کے ساتھ ہی ہمیں یہ نظارہ بھی نظر آتا ہے کہ ذرا کوئی شخص اُن سے کہہ دے کہ میں ہتھیلی