تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 299
فرمایا مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ۔بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ۔فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۔يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ۔فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ( الرحمٰن:۲۰ تا ۲۴ ) یعنی اُس نے دوسمندروں کو اس طرح چلایا ہے کہ وہ ایک وقت آکر آپس میں مل جائیں گے لیکن سرِ دست اُن دونوں کے درمیان خشکی کا ایک پردہ حائل ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے۔ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگا نکلتے ہیں۔اب بتاؤ کہ تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کا انکار کرو گے چنانچہ ان دونوں نہروں نے بحیرۂ قلزم اور احمر کو ایک طرف اور بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کو دوسری طرف ملا دیااور اس طرح یہ قرآنی پیشگوئی پوری ہوئی۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی امّت محمدیہ کو خوشخبری دی اور فرمایا کہ بے شک ایک زمانہ ایسا آئےگا جب کہ روحانی پانی آسمان کی طرف اُٹھ جائےگا۔مگر پھر آسمان سے ہی ایمان کا خزانہ واپس لےکر ایک فارسی الاصل انسان دنیا میں مبعوث ہوگا(بخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعۃ)۔جوصلیبی طاقتوں کو پاش پاش کر دے گا اور اسلام پر حملہ آور عاقبت نا اندیش لوگوں کو اپنے دلائل و براہین اور آسمانی حربوں اور معجزات و نشانات اور دُعاؤں کی مدد سے ایسا گھائل کرےگا کہ وہ سر اُٹھانے کی بھی تاب نہیں رکھیں گے۔وہ اسلام کو پھر روئے زمین پر غالب کرےگا کہ قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں بلند کرےگا۔اور ادیانِ باطلہ کو اسلام کے مقابلہ میں ایسی شکست دےگا کہ جس کی مثال دنیا میں نظر نہیں آئےگی(ابو داؤد کتاب الملاحم باب خروج الدجال )۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احیاء اسلام کے لئے صرف ایک موعود کے آنے کی ہی خبر نہیں دی بلکہ آپ نے وہ علامات بھی بتائیں جن سے اس کا پہچاننا مسلمانوں کے لئے آسان ہو جائے۔آپ نے بتایا کہ یہ موعود دو بیماریوں میں مبتلا ہوگا ایک دھڑ کے اوپر کے حصے سے تعلق رکھتی ہو گی اور ایک نچلے حصے سے (ابوداؤد کتاب الملاحم باب خروج الدجال)اور یہ کہ اُس کا رنگ گندم گوں ہوگا۔سر کے بال سیدھے ہوںگے۔کسانوں کے خاندان میں سے ہوگا۔اُس کے کلام میں لُکنت ہوگی۔وہ بات کرتے وقت ہاتھ کو اپنی ران پر مارےگااور کدعہ یعنی قادیان نامی گاؤں سے ظاہرہوگا(بخاری کتاب الانبیاء باب قول اللہ عزوجل واذکر فی الکتاب مریم)۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ وہ مسیحیت اور مہدویت کی دونوں شاخوں کا جامع ہوگا(ابن ماجہ ابواب الفتن باب شدّة الزمان )۔اُس وقت عیسائیت کو دوسری اقوام پرغلبہ حاصل ہوگا(الترمذی ابواب الفتن باب فی فتنة الدجّال) اور اسلامی شریعت کی مقرر کردہ حدود کو ترک کر دیا جائےگا۔جُؤا کثرت سے پھیل جائےگا۔امراء اپنے مالوں کی زکوٰۃ نکالنے کو بوجھ تصور کریں گے۔اسلامی حکومتیں ضعف و انحطاط کا شکار ہو جائیں گی(مشکوة المصابیح کتاب العلم ،ترمذی ابواب الفتن باب ما جاء فی اشراط الساعة ،ابن ماجہ