تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 298
اپنے دل بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اسلاف کی رُوح اُن میں باقی نہیں رہی۔خود علماء کہلانے والوں کی یہ حالت ہے کہ وہ فتنہ وفساد کو ہوا دینے کے لئے تو ہر وقت تیار رہتے ہیں لیکن وہ غرض جس کے لئے اسلام مبعوث ہوا تھا اس کی طرف انہیں کوئی توجہ نہیں۔نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ کی طرف اوّل تو اکثریت کی کوئی توجہ نہیں اور جو لوگ ان عبادات میں حصّہ لیتے ہیں وہ بھی رسمی رنگ میں حصّہ لیتے ہیں۔ورنہ نہ نماز کی غرض و غایت اُن کو معلوم ہے نہ روزہ کا مقصد اُن کے سامنے ہوتا ہے،نہ حج اور زکوۃ کی حکمت کا انہیں احساس ہوتا ہے۔پھر خدا جو سب سے بڑی دولت ہے اور جس کے کلام کے بغیر روحانیت کا پودہ کبھی پنپ نہیں سکتا اس کی محبت سے وہ ایسے بیگانہ ہو چکے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں اب خدا تعالیٰ کے کلام اور اُس کے الہام کا دروازہ بند ہو چکا ہے اوراللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے پہلے تو اپنے مامورین کو مبعوث فرماتا رہا ہے مگر اب اُس نے اس چشمۂ فیض کو بھی بند کر دیا ہے اور امت محمدیہ سے اپنا چہرہ ہمیشہ کے لئے چھپا لیا ہے اور وحی اور الہام کا سلسلہ قیامت تک بند کر دیا ہے۔اب خواہ کوئی لاکھ چلائےاللہ تعالیٰ اُس کی روح کی تسکین کا کوئی سامان پیدا نہیں کرے گااور اُسے ظلمات کی وادیوں میں بھٹکتا چھوڑ دےگا۔یہ وہ حالات ہیں جن سے موجودہ دور کا مسلمان گذر رہا ہے۔وہ مایوسی اور نکبت کا شکار ہو چکا ہے۔روحِ فاعلی اُس کے اندر سے مفقود ہو چکی ہے اورکُفر پر غالب آنے کے ولولے اُس کے قلب کے کسی گوشہ میں بھی نہیں پائے جاتے اور یقیناً اگر یہی حالات رہتے تو اسلام کی ہستی معرضِ خطر میں پڑجاتی اور ابلیس کا سر کبھی کچلا نہ جا سکتا۔لیکن وہ خدا جس نے اسلام کے ایک ہزار سالہ دور تنزل کی خبر دی تھی اُسی نے قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسری بروزی بعثت کی بھی خبر دی تھی (الجمعۃ:۴)اورپھر اُس زمانہ کی علامات بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اُس زمانہ میں خدا ترس علماء جو دنیا کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا موجب ہوا کرتے ہیں دنیا سے مفقود ہو جائیں گے اور اُن کی جگہ ایسے علماء لے لیں گے جو دین سے بے بہرہ ہوںگے(بخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم)۔اُس زمانہ میں ایک نئی سواری ایجاد ہو گی جس کی وجہ سے اونٹ ترک کر دیئے جائیں گے۔اُس وقت کتابیں اور اخبار کثرت سے شائع ہوںگے۔علوم ہیئت کے کئی نئے عظیم الشان انکشافات ہوں گے۔دریاؤں میں سے نہریں نکالی جائیں گی پہاڑوں کو اُڑایا جائےگا۔سفر کا رواج زیادہ ہو جائےگا۔ستی وغیرہ کی قدیم رسوم قانوناً بند کر دی جائیں گی۔ایسی سواریاں ایجاد ہوںگی جو اس سے پہلے دنیا میں موجود نہیں تھیں اور دو سمندروں کے درمیان کی ایک خشکی کو پھاڑ کر جس کے ایک طرف مونگا پایا جاتا ہے اور دوسری طرف موتی دونوں سمندروں کو ملا دیا جائےگا۔اور اُس میں کثرت سے جہاز چلیں گے جس میں سویز اور پانامہ کی نہروں کی طرف اشارہ تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ رحمٰن میں اس کی خبر دیتے ہوئے