تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 297
قادر ہیں۔یہ وہی خبر ہے جس کی طرف قرآن کریم کے متعدد مقامات میں اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے آخری شرعی کلام کو آسمان سے نازل کرکے زمین میں قائم کرے گااور لوگوں کی مخالفت اُس کے راستہ میں روک نہیں بنے گی۔لیکن پھر ایک عرصہ کے بعد جبکہ لوگوںمیں بگاڑ پیدا ہو جائےگایہ کلام آسمان پر چڑھناشروع ہو جائےگااور ایک ہزار سال میں یہ دنیا سے اُٹھ جائےگا۔(السجدۃ :۶) رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام شریعت کے زمانہ کو تین سوسال کا عرصہ قراردیا ہے۔جیسا کہ آپ ایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ یَکُوْنُ بَعْدَھُمْ قَوْمٌ یَشْھَدُوْنَ وَلَا یُسْتَشْھَدُوْنَ وَ یَخُوْنُوْنَ وَلَا یُؤْتَمَنُوْنَ وَ یَنْذِرُوْنَ وَلَا یُوْفُوْنَ وَ یَظْھَرُ فِیْھِمُ السَّمَنُ ( بخاری کتاب الرقاق باب مایحذرمن زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا)یعنی سب سے بہتر میری صدی ہے پھر اس سے اُتر کر وہ لوگ ہوںگے جو دوسری صدی میں ہوںگے اور ان سے اُتر کر وہ لوگ ہوںگے جو تیسری صدی میں ہوںگے۔مگرا س کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے جو گواہی دیں گے تو لوگ کہیں گے کہ تمہاری گواہی کا ہم کیا اعتبار کریں تم تو جھوٹ بولتے ہو۔کوئی شخص اُن کے پاس امانت رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوگا کیونکہ وہ سخت خائن اور بد دیانت ہوںگے۔اسی طرح اُن کا حال یہ ہوگا کہ وہ نذریں مانیں گے تو اُن کو پورا نہیں کریں گےاور کھا کھا کر خوب موٹے ہو جائیں گے یعنی دین کی محبت اور قربانی کا جذبہ اُن کے اندر نہیں ہوگا۔اسی طرح آپؐ نے فرمایا کہ اُس زمانہ میں مسلمانوں کی یہ حالت ہوگی کہ لَا یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اِسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہٗ(مشکوٰۃ المصابیح کتاب العلم الفصل الثالث)اسلام کا صرف نام ہی باقی رہ جائےگااور قرآن کریم کی صرف تحریر رہ جائےگی۔یعنی اسلام کا مغز لوگوں میں باقی نہیں رہےگا اور قرآن کریم کے مطالب کسی پر روشن نہیں ہوںگے۔اُن کی عبادتیں اخلاص سے خالی ہوںگی اور اُن کے دماغ قرآنی معارف کو سمجھنے سے عاری ہو جائیں گے۔قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشگوئیوں کے مطابق ابتدائی تین صدیوں کے بعد اسلام پر زوال آنا شروع ہوااور یہ زوال اتنا بڑھا کہ مسلمان اپنی طاقت کو بالکل کھو بیٹھے۔کُجا تو وہ وقت تھا کہ یورپ ایک ایک مسلمان بادشاہ سے ڈرتا تھا اور کُجا یہ حالت ہے کہ اب یورپ اور امریکہ کا مقابلہ کرنے کی سکت سارے عالم اسلام میں بھی نہیں ہے۔پھر مسلمانوں کی عملی حالت خودبخود بتارہی ہے کہ وہ اسلام سے کس قدردُور جاچکے ہیں۔انہوں نے اسلام کی تعلیم کے صریح خلاف عقائد اختیار کر رکھے ہیں اور اسلام کی اشاعت کا جذبہ اُن کے دلوں سے مفقود ہو چکا ہے۔نہ محبت الٰہیہ اُن میں پائی جاتی ہے اور نہ محبت ِ رسول کا کوئی نمونہ اُن کی عملی زندگی میں نظر آتا ہے۔منہ سے بے شک وہ اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں مگر اُن کے