تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 287
روحانی قابلیت بھی موجود تھی یعنی باوجود آپ میں شدید غصّہ ہونے کے۔باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کو تکا لیف پہنچانے کے اُن کے اندر جذبۂ رقت بھی موجود تھا۔چنانچہ جب حبشہ کی طرف پہلی ہجرت ہوئی تو مسلمانوں نے نماز فجر سے پہلے مکہ سے روانگی کی تیاری کی تاکہ مشرک انہیں روکیں نہیں اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائیں۔مکہ میں یہ رواج تھا کہ رات کو بعض رؤساء شہر کا دورہ کیا کرتے تھے تاکہ چوری وغیرہ نہ ہو۔اسی دستور کے مطابق حضرت عمر ؓ بھی رات کو پھر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک جگہ گھر کا سب سامان بندھا پڑا ہے۔آپ آگے بڑھے۔ایک صحابیہ ؓ سامان کے پاس کھڑی تھیں۔اُس صحابیہؓ کے خاوند کے ساتھ شاید حضرت عمر ؓ کے تعلقات تھے۔اس لئے آپ نے اُس صحابیہ ؓ کو مخاطب کر کے کہا۔بی بی یہ کیا بات ہے۔مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم کسی لمبے سفر پر جارہی ہو۔اُس صحابیہؓ کا خاوند وہاں نہیں تھا۔اگر وہ وہاں ہوتا تو ہو سکتا تھا کہ مشرکینِ مکہ کی عداوتوں اور دشمنیوں کی وجہ سے حضرت عمرؓ کی یہ بات سن کر وہ کوئی بہانہ بنا دیتا۔لیکن عورت کو یہ حِس نہیں تھی۔اُس صحابیہؓ نے کہا عمرؓ! ہم تو مکہ چھوڑ رہے ہیں انہوں نے کہا۔تم مکہ چھوڑ رہی ہو۔صحابیہ ؓ نے کہا ہاں ہم مکہ چھوڑ رہے ہیں۔حضرت عمرؓ نے پوچھا تم کیوں مکہ چھوڑ رہے ہو۔صحابیہ ؓ نے جواب دیا۔عمرؓ ! ہم اس لئے مکہ چھوڑ رہے ہیں کہ تم اور تمہارے بھائی ہمارا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے۔اور ہمیں خدا ئے واحد کی عبادت کرنے میں یہاں آزادی میسر نہیں۔ا س لئے ہم وطن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں جارہے ہیں۔اب باوجود اس کے کہ حضرت عمر ؓ اسلام کے شدید دشمن تھے۔باوجود اس کے کہ وہ خود مسلمانوں کو مارنے پر تیار رہتے تھے۔رات کے اندھیرے میں اُس صحابیہ ؓ سے یہ جواب سن کر کہ ہم وطن چھوڑ رہے ہیں اس لئے کہ تم اور تمہارےبھائی ہمارا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے اور ہمیں خدائے واحد کی عبادت آزادی سے نہیں کرنے دیتے۔حضرت عمرؓ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔اور اس صحابیہ ؓ کا نام لے کر کہا۔اچھا جائو خدا تمہارا حافظ ہو۔معلوم ہوتا ہے حضرت عمر ؓ پر رقت کا ایسا جذبہ آیا کہ آپ نے خیال کیا کہ اگر میں نے دوسری طرف منہ نہ کیا تو مجھے رونا آجائے گا۔اتنے میں اُس صحابیہ ؓ کے خاوند بھی آگئے۔وہ سمجھتے تھے کہ عمرؓ اسلام کے شدید دشمن ہیں۔انہوں نے جب آپ کو وہاں کھڑا دیکھا تو خیال کیا یہ ہمارے سفر میں کوئی روک پیدا نہ کر دیں۔انہوں نے اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ یہ یہاں کیسے آگیا؟ اُس نے بتا یا کہ وہ اس اِس طرح آیا تھااور اس نے سوال کیا تھا کہ تم کہاں جارہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی شرارت نہ کر دے۔اُس صحابیہ ؓ نے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ( عرب عورتیں عام طورپر اپنے خاوندوں کو چچا کا بیٹا کہا کرتی تھیں )تم تو یہ کہتے ہو کہ وہ کہیں کوئی شرارت نہ کر دےمگر مجھے تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اُس نے کسی دن مسلمان ہو جانا ہے کیونکہ جب میں نے کہا عمرؓ! ہم اس لئے مکہ