تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 24

صاحب خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ کو ملنے کے لئے آئے اور انہوں نے یہ آیت آپ کے سامنے رکھی کہ آپ اس کوحل کردیں اور یہ ا عتراض کیا کہ قرآن نے یہ کیا کہا ہے کہ اگر کئی معبود ہوتے تو زمین و آسمان میں فساد پید اہو جاتا حالانکہ معبود تو کہتے ہی اسے ہیں جو کامل القویٰ ہو انسان بادشاہ دنیامیں لڑتے ہیں۔اگر واقعہ میں خداکے سوا اور کئی خداہوتے تو وہ آپس میں کیوں لڑتے۔استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃا لمسیح اوّل رضی اللہ عنہ نے ان کو کئی جواب دیئے مگر ان کی تسلی نہ ہوئی بڑی دیر تک وہ اعتراض کرتے چلے گئے۔مجھے اب تک وہ کمرہ یاد ہے جہاںیہ باتیںہوئی تھیںبلکہ اب تک وہ جہتیں بھی یاد ہیں جس طرف دونوں کے منہ تھے۔استاذی المکرم حضرت مولوی صاحب ؓ کامنہ اس وقت شمال کی طرف تھا۔اور سندھی مولوی صاحب کا منہ جنوب کی طرف تھا۔اور دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے جب بحث لمبی ہوگئی اور سندھی مولوی صاحب( جو اغلبا ً مولانا عبید اللہ صاحب سندھی تھے )نے کہا کہ اعتراض کا کوئی جواب نہیںہو سکتا تو استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب ؓ نے بڑے جوش سے کہاکہ آپ مجھ سے کہتے ہیںکہ میںجواب نہیں دے سکتا۔ذرا اس بچہ سے جو میرا شاگرد ہے بحث کرکے دیکھ لیں۔مولوی عبیداللہ صاحب کو معلوم تھا کہ میںبانئ سلسلہ احمدیہ کابیٹاہوں۔وہ تھے تو دیوبندی مگر ایک لمبے عرصہ تک مختلف پیروںکے مریدبھی رہ چکے تھے اور پیروں کا ادب ان کے دل میں بڑاتھا۔استاذی المکرم کی بات سن کر کہنے لگے ان سے میںبحث نہیںکروںگا یہ تو مرزا صاحب کے بیٹے ہیں۔معلوم نہیںاگر بحث ہوجاتی تو میں اس وقت کیا جواب دیتالیکن اب میں سمجھتاہوں کہ بیشک اٰلھہ کامل القویٰ ہوتے ہیںلیکن ان کا کامل القویٰ ہونا ہی بتاتاہے کہ وہ ایک وقت میں ایک سے زیاد ہ نہیں ہوسکتے۔مذکورہ بالاواقعہ تو ۹ ؁ء کاہے ۱۱ ؁ء میں میں ڈلہوزی گیا وہاں چرچ نے یوروپین پادریوں کے آرام کے لے کچھ کوٹھیاں بنائی ہوئی ہیں۔پادری ینگسن صاحب جن کے ذریعہ سے سیالکوٹ میںعیسائیت مضبوط ہوئی ہے وہ وہاں سے بدل کر جنوبی ہند میں کسی جگہ پرمقرر ہوئے تھے اور گرمیاں گذارنے کے لئے ڈلہوزی آئے ہوئے تھے۔وہ جواںسال بڈھا روزانہ شام کو اسلام کے خلاف پمفلٹ ہاتھ میںپکڑ کر بازار میںپھرتاتھااور مسلمانوں میں تقسیم کرتاتھا مسلمان بے عمل تو بہت ہیں مگر جوش میںبھی بہت جلد آجاتے ہیں خصوصا ً ان پڑھ طبقہ۔چنانچہ ڈلہوزی اور ساتھ کی چھائونی بیلون میں بڑا شور پڑگیا کہ اس پادری کے ساتھ کسی مسلمان عالم کی بحث کرانی چاہیے۔بیلون جو ڈلہوزی کے پاس چھائونی ہے اس کی جامع مسجد کے امام ایک کشمیری مولوی تھے ان کو پتہ تھا کہ میں آیا ہوا ہوں۔جب لوگ ان کے پاس گئے تو انہوںنے کہاکہ میں نے سنا ہے کہ مرزا صاحب کا بیٹا آیا ہوا ہے۔اس کو مباحثہ کے لئے لے جائو عیسائیوں سے مباحثہ قادیانی اچھا کرتے ہیں