تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 269

بڑھ جائے۔اُن کے لئے زیورات کی اجازت ہے مگر ایک حد کے اندر۔لیکن مردوں کے لئے زیورات کا استعمال قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح وہ برتن جو سونے چاندی کے ہوں اُن کا استعمال بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوع قرار دیا ہے۔(بخاری کتاب الاشربة باب الشرب فی انیة الفضة)۔اس ضمن میں وہ اشیاء بھی آجاتی ہیں جو عام طورپر محض زینت یا تفاخر کے لئے امراء اپنے مکانوں میں رکھتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنی کوٹھیوں کی زینت کے لئے ایسی ایسی چیزیں خرید لیتے ہیں جن کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا۔مثلاً بعض لوگ چینی کے پُرانے برتن خرید کر اپنے مکانوں میں رکھ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک بڑی قیمتی چیز خرید ی ہے۔یوروپین لوگوں میں خصوصیت کے ساتھ یہ نقص ہے کہ وہ پانچ پانچ دس دس ہزار روپیہ اس قسم کے برتن خرید نے پر صرف کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ وہ برتن ہیں جو آج سے اتنے ہزار سال پہلے کے ہیں یا پُرانے قالین بڑی قیمت پر خرید کر اپنے مکانوں میں لٹکا لیتے ہیں۔حالانکہ ویسے ہی قالین پچاس ساٹھ روپیہ میں آسانی سے مل جاتے ہیں لیکن محض اس لئے کہ وہ لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ یہ قالین فلاں بادشاہ کا ہے۔یا فلاں زمانہ کا ہے وہ بہت کچھ روپیہ اُس کے خریدنے پر برباد کردیتے ہیں۔اسلام کے نزدیک یہ سب لغو چیزیں ہیں اور ان میں کوئی حقیقی فائدہ نہیں کیونکہ صرف دولت کے اظہار کے لئے لوگ ان چیزوں کو خریدتے اور اپنے روپیہ کو برباد کرتے ہیں۔میں تو سمجھتا ہوں کہ یوروپین لوگوں کو اگر آج پتہ لگے کہ کسریٰ کا قالین اُن کو مل رہا ہے تو شاید اس کے لئے وہ ایک کروڑ روپیہ بھی دےدیں لیکن مسلمانوں کے نزدیک اُس کی اتنی حیثیت تھی کہ ایک جنگ میں کسریٰ نے کہا کہ مسلمان افسر میرے پاس لائے جائیں میں اُن کے ساتھ خود بات چیت کرنا چاہتاہوں۔اس پر صحابہؓ کا ایک وفد اُس کے پاس گیا اور ان کے سردار اپنے بھدے جوتوں کے ساتھ قالین پر اپنا نیزہ مارتے ہوئے اُس کے پاس پہنچے۔بادشاہ اُن کی اس حرکت کو دیکھ کر حیران ہو گیااور کہنے لگا آپ لوگوں میں کوئی تمیز ہی نہیں (تاریخ ابن خلدون سنۃ ۱۴ ھ ذکر الخبر عما ھیج امر القادسیة )۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ بادشاہ ہو کر بھی قالین کی عزت کرتا تھا اورمسلمان غریب ہو کر بھی صرف خدا کی عزت کرتا تھا اور کسریٰ کے پاس ہو نے کی وجہ سے قالین اُس کی نظروں میں کوئی عزت نہیں رکھتا تھاوہ صرف اُس چیز کی عزت کرتا تھا جس کی خدا عزت کرتا تھا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ساری باتوں کو عملاً ناجائز قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ مومن کا یہ کام نہیں کہ ان لغو کاموں میں اپنے وقت کو ضائع کرے اور اس قسم کی بیکار چیزوں پر اپنے روپیہ کو برباد کرے۔آج کل کے لحاظ سے سینما اور تھیئٹر وغیرہ بھی اس حکم کے نیچے آجائیں گے کیونکہ سینما اور تھیئٹروں وغیرہ پر بھی