تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 265
ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اسلام لاتے وقت جو وعدے کئے تھے اُن کو مکمل طورپر انہوں نے پورا کرکے دکھا دیا ہے۔اور کفار سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ہیںاور بعض انتظار کر رہے ہیں اور ایسے لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور کفار سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔درجنوں سے زیادہ ہیں مگر شیعہ ایسے حساب دان ہیں کہ اُن کے نزدیک جو درجنوں کی جماعت ہے اُسے اڑھائی آدمی کہنا چاہیے۔پھر شیعہ کہتے ہیں کہ خلافت کا اصل حق تو حضرت علی ؓ کا تھا اور انہی کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت بھی فرمائی تھی مگر ابو بکر ؓ اور عمر ؓ جن کو خلافت کی خواہش تھی انہوں نے حضرت علیؓ کا حق غصب کر لیا اور خود خلیفہ بن گئے ( جلاء العیون فصل ششم در بیان احوال چند )۔یہ عقیدہ بھی اوّل تو اس لحاظ سے غلط ہے کہ حضرت علیؓ جیسے بہادر اور شجاع انسان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ ایک امر کو حق سمجھتے ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا حامل ہوتے ہوئے اس کے خلاف عمل کرنے والوں کے مقابلہ میں خاموش رہےاور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو انہوں نے پسِ پشت ڈال دیااور عالم اسلام کو تباہی کے گڑھے میں گرتے دیکھ کر بھی کوئی قدم اٹھانا مناسب نہ سمجھا بالکل عقل کے خلاف ہے۔پھر تاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ حضرت علی ؓ نے حضرت ابو بکرؓ کی بھی بیعت کی تھی اور پھر حضرت عمرؓ کی بھی بیعت کی تھی (البدایۃ و النھایۃ فصل خلافۃ ابی بکر)اور ان دونوں خلفاء کے ساتھ مل کر وہ کام کرتے رہے بلکہ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں بعض سفروںکے پیش آنے پرحضرت علیؓ کو اپنی جگہ مدینہ کا امیر بھی مقرر فرمایا۔چنانچہ طبریؔ میں لکھا ہے کہ واقعۂ جسر کے موقعہ پر جبکہ مسلمانوں کو ایرانی فوجوں کے مقابلہ میں ایک قسم کی زک اُٹھانی پڑی تھی حضرت عمرؓ نے لوگوں کے مشورہ سے ارادہ کیاکہ آپ خود اسلامی فوج کے ساتھ ایران کی سرحد پر تشریف لے جائیں اور آپ نے اپنے پیچھے حضرت علیؓ کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا۔(تاریخ طبری ذکر الخبر عما ھیج القادسیۃ)اسی طرح جب مسلمانوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا اور وہاں کے لوگوں نے اُس وقت تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا جب تک کہ خود حضرت عمرؓ وہاں تشریف نہ لائیں۔تو اُس وقت بھی حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کو ہی اپنے بعد مدینہ کا گورنر مقرر کیا تھا۔حالانکہ آپ کو کئی ماہ کاسفردرپیش تھا(البدایة و النھایة فتح بیت المقدس علی یدی عمر بن الخطابؓ)۔اس روایت سے ثابت ہے کہ حضرت علیؓ اپنا عندیہ اتنا چھپاتے تھے کہ حضرت عمر ؓ اُن کو اپنے پیچھے گورنر مقرر کر دیتے تھے اور اس بات سے ذرا بھی نہیں ڈرتے تھے کہ پیچھے یہ بغاوت کر دیں گے گویا حق چھپانے کی عادت حضرت علیؓ میں انتہا درجہ کی پائی جاتی تھی۔اگر یہی بات کسی شیعہ عالم کے متعلق کہی جائے تو غالبًا وہ گالیاں دینے لگ جائےگا۔لیکن ایسی گندی بات حضر ت علی ؓ کی طرف