تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 259
وقت سب رشتے ٹوٹ جائیں گے اور صرف وہی لوگ کامیاب ہوںگے جنہوں نے دنیا میں کچھ کام کیا ہوگا۔جنہوں نے دنیا میں کوئی اچھا کام نہیں کیا ہو گا وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔آگ ان کے مونہوں کو جلا کر سیاہ کر دے گی اور ان کو کہا جائے گا کہ تم ہمارے نشانوں کا انکار کیا کرتے تھے۔( آیت ۱۰۰ تا ۱۰۶) اس پر وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہماری بد قسمتی سے ایسا ہوا۔ہم گمراہ تھے خدایا تو پھر ہم کو لوٹا دے۔پھر ہم ایسا نہیں کریں گے۔فرمائے گا۔اب ان باتوں سے کیا فائدہ۔میرے بندے صرف اتناہی کہتے تھے نا کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے۔تو ہمیں معاف کردے۔تو بڑا رحم کرنے والا ہے۔تمہاری جائیدادیں تو نہ چھینتے تھے مگر تم ان سے مزاق کرتے تھے۔اتنا مزاق کہ دنیا میں کوئی اور چیز تمہیں یاد ہی نہ رہی تھی۔اب میں ان کی اس مظلومیت کا بدلہ لوں گا۔( آیت ۱۰۷ تا ۱۱۲) پھر خدا ظالموں سے پوچھے گا تم کتنی مدت دنیا میں رہے ؟ وہ کہیں گے کچھ نہیں۔کوئی ایک دن یا دن کا کچھ تھوڑا سا حصہ ( آرام کی زندگی تکلیف کے وقت بالکل حقیر نظر آنے لگ جاتی ہے ) اللہ تعالیٰ فرمائے گا ٹھیک ہے تم تھوڑا ہی رہے مگر کاش !کہ تمہیں پہلے اس کا علم ہوتا کہ یہ زندگی جس کو تم لمبا سمجھ رہے ہو تھوڑی ہے۔( آیت ۱۱۳ تا ۱۱۵) اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے تم کو بغیر کسی غرض کے پیدا کیا ہے اور تم ہمارے سامنے جواب دہ نہیں ہو گے۔اللہ تعالیٰ بڑی شان والا ہے وہ سچا اور حقیقی بادشاہ ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ ایک بزرگ عرش کا مالک ہے جو شخص بے دلیل اس کے سوا کوئی معبود ٹھیراتا ہے اس کو خدا کے سامنے حساب دینا پڑے گا اوروہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔تو ان لوگوں سے منہ پھیر لے اور اپنے خدا سے بخشش مانگ اور اس کا رحم طلب کر۔( آیت ۱۱۶ تا ۱۱۹)