تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 258
ڈرتے ہیں جس نتیجہ کی طرف یہ شخص توجہ دلارہا ہے۔اگر حقیقت ان لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہو جاتی تو زمین و آسمان میں فساد پیدا ہو جاتا اور انسان تباہ ہو جاتے۔( آیت ۶۹ تا ۷۲) توان سے کچھ مانگتاتو نہیں تیری مدد تو خدا کرتا ہے۔تُو تو ان کو صرف سیدھا راستہ دکھاتا ہے اور یہ لوگ سیدھے رستہ پر چلنے سے کتراتے ہیں۔ہم تو ان کو بخش ہی دیتے لیکن ہم بخشیں تو یہ شرارتوں میں اور بھی بڑھ جاتے ہیں اگر عذاب کے وقت یہ توجہ کریں تو پھر بھی ہم کچھ رحم کردیں۔مگر یہ تو عام عذاب کے وقت بھی اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔اور جب آخری عذاب آجاتا ہے تو پھر بالکل ہی نا امید ہو کر ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔( آیت ۷۳ تا ۷۸) پھر فرماتا ہے ذرا سوچو تو سہی تمہاری یہ شنوائیاں ، تمہاری بینائیاں اور تمہارے دل تمہارے کس کام کے بدلہ میں تمہیں ملے ہو ئے ہیں۔کیا کبھی اس کا بھی شکر کیا ہے؟ یہ رات اور دن کی تبدیلیاں اور یہ موت اور حیات تمہارے لئے کیسے فوائد رکھتی ہے ؟ کیا تم سمجھتے نہیں۔بس ایک ہی رٹ لگی جاتی ہے کہ مر کر زندہ کس طرح ہوںگے۔یہی بات ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی ثبوت نہیں ملا۔( آیت ۷۹ تا ۸۴) تو ان سے کہہ کہ آخر یہ سب کچھ کس کا ہے ؟ خدا کا۔کیا پھر بھی نصیحت نہیں آتی پھر تو پوچھ کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے۔یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ اللہ۔مگر پھر بھی نہیں سمجھتے اور یہ تمام مخلوق کی بادشاہت اور دعائوں کا سننا کس کے اختیا رمیں ہے ؟ اللہ کے۔پھر بھی تم غور نہیں کرتے۔( آیت ۸۵ تا ۹۱) یاد رکھو۔خدا کا کوئی بیٹا نہیں۔اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اگر ایسا ہوتا تو ضرور ایک دوسرے کے خلاف بغاوت ہو جاتی۔وہ غیب اور شہادت کو جانتا ہے ( حالانکہ مسیح ؑ غیب کے جاننے سے منکر ہے۔مرقس باب ۱۳ آیت ۳۲ ، ۳۳) پس وہ تمہارے شرکوں سے بالا ہے۔( آیت ۹۲ ، ۹۳) تو کہہ دے کہ اگر میری زندگی میں میری قوم پر عذاب آئے تو اے خدا تو مجھے ان سے علیحدہ رکھیو۔پھر فرماتا ہے ہم اس بات پر قادر ہیں کہ تیری آنکھوں کے سامنے ان پر عذاب لے آئیں لیکن تو خود یہی طریق اختیار کر کہ بری باتو ں کا جواب اچھی باتوںسے دے اور اگر ان کی گالیوں سے کبھی غصہ آجائے تو ہم سے دعا مانگا کر کہ الٰہی شیطان کے وسوسوں سے مجھے محفوظ رکھ بلکہ ایسے مواقع سے ہی مجھے محفوظ رکھ کہ شریر لوگ میرے سامنے ایسی باتیں کریں جو ناقابل برداشت ہوں۔( آیت ۹۴ تا ۹۹) یہ لوگ تو اسی طرح شرارتیں کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ موت آجائے گی اور اس وقت کہیں گے کہ خدایا اب تو ہم کو واپس کر تاکہ ہم نیک عمل کریں۔مگر ایسا نہیں ہو سکے گااور جب ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو اس