تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 224

نے عقیدۂ توحید کو پیش کیا اُس وقت دنیا کی کیا کیفیت تھی۔عیسائی تین خدائوں کے قائل تھے۔زرتشتی نور اور ظلمت کے الگ الگ دیوتا قرار دیتے تھے۔مجوسی آگ کی پرستش کر تے تھے۔بتوں کے پجاری لات و منات کو اپنا خدا قرار دے رہے تھے اور تمام دنیا شرک سے بھری ہوئی تھی مگر آج اسلام کی پیش کردہ توحید دنیا پر اس قدر غالب آچکی ہے کہ عیسائی بھی اپنے آپ کو موحد کہتے ہیں اور بُتوں کے پجاری بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تو ایک ہی ہے یہ بُت محض ایک واسطہ ہیں جن کے ذریعہ الٰہی دربار تک پہنچا جا تا ہے۔حالانکہ جب اسلام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ خدا ایک ہے تو اس وقت مکّہ کے لوگوں کو اس دعویٰ پر اس قدر حیرت ہوئی تھی کہ انہوں نے یہ کہنا شروع کرد یا تھا کہ اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ( ص:۶ ) یعنی کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے۔یہ تو بڑی عجیب بات ہے جو کبھی سُنی نہیں گئی۔گویا انہوں نے یہ سمجھا کہ معبود تو کئی ہیں مگر یہ شخص جو ایک خدا کہتا ہے تو شائد اس نے سب معبودوں کو کوٹ کاٹ کر ایک معبود بنا دیا ہے مگر اب ساری دنیا اسلامی توحید کو اپنا رہی ہے اور مشرک قومیں بھی شرک کرنے کے باوجود توحید کا انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتیں۔یہی حال دوسرے مسائل کا ہے۔یورپ ایک بڑی مدت تک اسلامی مسائل پر اعتراض کرتا رہا۔مگر اب وہاں کے بعض اچھے تعلیم یافتہ اوراعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں وہی باتیں جو پہلے اسلام کے خلاف سمجھی جاتی تھیں اب اُس کی صداقت کا ثبوت سمجھی جانے لگی ہیں۔میں جب اپنے علاج کے سلسلہ میں لنڈن گیا تو میرے وہاں پہنچنے سے چند دن پہلے وہاں کا ایک مشہور میوزیشن جو لنڈن کے ایک بہت بڑے اوپیرا میں کام کرتا اور پیانو وغیرہ بجاتا ہے اس کے دل میں اسلام کی رغبت پیدا ہوئی۔اور مجھے وہاں کے مبلغین نے بتا یا کہ اس شخص کی اسلام کی طرف رغبت کی ایک عجیب وجہ ہے جو عام وجوہات سے بالکل اُلٹ ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دماغوں میں تغیر پیدا کر رہا ہے۔کوئی زمانہ ایسا تھا کہ اسلام کے راستہ میں سب سے بڑی روک تعدد ازواج کا مسٔلہ سمجھا جاتا تھا اور یورپ کے لوگ اصرار کرتے تھے کہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا سخت ظلم ہے مگر اب یہ حالت ہے کہ جب اس کے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہوئی تو وہ پہلے بعض اور مسلمانوں کے پاس گیا اور اُس نے اُن سے پوچھا کہ اسلام کا تعدد ازواج کے متعلق کیا خیال ہے۔انہوں نے کہا توبہ توبہ یہ بات تو دشمنوں کی طرف سے سخت بگاڑ کر پیش کی جاتی ہے اسلام میں کوئی ایسا حکم نہیں۔یہ تو خاص خاص مجبوریوں اور شرطوں اور قیدوں کے ساتھ اجازت دی گئی ہے اُس نے بتا یا کہ انہوں نے جب مجھے یہ جواب دیا تو میں جھٹ کھڑا ہو گیا اور میں نے کہا کہ مجھے تو اسلام میں یہی ایک خوبی نظر آئی ہے اور تم کہتے ہو کہ اس کے ساتھ کئی قسم کی قیدیں اور شرطیں ہیں۔میں تو وہاں جانا چاہتا ہوں جہاں مجھے سیدھی طرح بتا یا جائے کہ اسلام اس