تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 204
ذریّت انبیاء اور اُن کی جماعتوں کے خلاف پورا زور لگاتی ہے۔جنہوں نے مرنے والوں کو دیکھا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اس بے ہوشی میں بھی جس میں دنیا و مافیہا کی اُسے کوئی خبر نہیں ہوتی جبکہ ساری طاقت زائل ہو چکی ہوتی ہے اور تمام قوت خرچ ہو چکی ہوتی ہے مرنے سے چند منٹ پہلے مرنے والا اس طرح زور لگا تا ہے کہ گویا وہ پھر اس دنیا میں واپس آنا چاہتا ہے۔اس کا سارا جسم ہل جاتا ہے۔گردن اُٹھ جاتی ہے اور وہ اپنی طاقت کا آخری ذرّہ تک اس لئے خرچ کر دیتا ہے کہ بچ جائو ں۔یہ اس انسان کی حالت ہوتی ہے جو بے ہوشی میں ہوتا ہے جس کی طاقت خرچ ہو چکی ہوتی ہے۔جو سُوکھ کر کانٹا ہو چکا ہوتاہے پھر اُس کی کیا حالت ہوگی جو بے ہوش نہ ہو اور جس کی طاقت خرچ نہ ہوئی ہو۔ایک چھوٹے بچے کو ہی کنوئیں میں ڈراوے کے طور پر دھکیل کر دیکھ لو کس طرح وہ چمٹ جاتا ہے اور عام طاقت سے آٹھ دس گنے زیادہ طاقت اُس میں پیدا ہو جائےگی۔ایک ایسا آدمی جسے کُشتی میں پہلوان ایک منٹ میں گِرا سکتا ہے اُس کے متعلق پہلوان سے کہو کہ اُسے کنوئیں میں گِرا کر دیکھے تو ایک منٹ چھوڑ ایک گھنٹے میں بھی نہیں گِرا سکے گا۔اس لئے کہ کشتی میں تو وہ سمجھتا ہے مقابلہ ہے اگر گِر بھی گیا تو کیا ہو ا۔مگر جب وہ یہ سمجھے کہ موت آنے لگی ہے تو اپنی ساری طاقت خرچ کرےگا اور اتنا زور لگا ئے گا کہ اوّل تو زبر دست کے برابر ہو جائے گا ورنہ اُس کے قریب قریب رہےگا۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں کوئی سلسلہ قائم کیا جاتا ہے تو اُس وقت ایسی ارواح خبیثہ جو شیطان سے تعلق رکھتی ہیں یا بعض گناہوں کی وجہ سے شیطان نے اُن پر تصرف پایا ہوا ہوتا ہے جوش میں آجاتی ہیں اور سارا زور اس بات کے لئے صرف کرتی ہیں کہ کسی طرح سچائی دنیا میں نہ پھیلے۔یہ لوگ جو الٰہی سلسلوں کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے ہیں کبھی تو ایسے ہوتے ہیں جو اِن سلسلوں میں نام کے لحاظ سے شامل ہوتے ہیں جیسے عبدا للہ بن ابی ابن سلول اور اُس کے ساتھ تعلق رکھنے والے اور کبھی ایسے ہوتے ہیں جو نام کی طرف تو منسوب ہوتے ہیں لیکن نظام کی طرف منسوب نہیں ہوتے۔جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں خوارج تھے۔اور کبھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نہ نام کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور نہ نظام کے لحاظ سے کوئی تعلق رکھتے ہیں۔جیسے مکّہ کے کفار اور یہود اور نصارٰی۔یہ سب لوگ مل کر اُن مقاصد میں روک بننا چاہتے ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں۔اور ہر قسم کی مشکلات اُن کے راستے میں کھڑی کر دیتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ اپنے نشانات کے ساتھ نبیوں کی تائید کرتا اور شیطان کو اس کے تمام منصوبوں میں ناکام کر دیتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جس طرح شکاری کتے کو اگر کسی چور کے کپڑے کی خوشبو سونگھا کر چھوڑ دیا جائے تو وہ دس بیس بلکہ سو میل تک بھی پیچھے جا کر اُسے