تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 197

طاقتیں بالکل ٹوٹ جائیں گی تو اُس وقت ان پر بھی یہ حقیقت روشن ہو جائیںگی کہ ان کی ترقی کا زمانہ صرف ایک ہزار سال تھا بلکہ اس کے بعد تباہی اور بر بادی ہی اُن کے لئے مقدر تھی۔پھر انہی د س صدیوں کو ایک یوم بھی قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُھُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا ( طٰہٰ:۱۰۵)یعنی اپنی تباہی کے موقعہ پر وہ جو کچھ کہیں گے ہم اُسے خوب جانتے ہیں جبکہ اُن میں سے سب سے زیادہ اُن کے مذہب پر چلنے والا کہےگا کہ اگر حقیقت پر غور کیا جائے تو تم صرف ایک مقررہ وقت تک رہے ہو۔یعنی پیشگوئی کے مطابق د س صدیاں۔سورۂ سبا میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ۠ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠( سبا :۳۰،۳۱) یعنی مخالف کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ساری دنیا میں اسلام کے پھیل جانے کا وعدہ کب پورا ہوگا۔تو انہیں کہہ دے کہ تمہارے لئے ایک وقت ِ معین کا اعلان کر دیا گیا ہے۔تم نہ تو اُس سے ایک گھڑی پیچھے رہ سکو گے اور نہ آگے بڑھ سکو گے۔یہاں بھی ایک یوم سے مراد ایک ہزار سالہ زمانہ ہے جیسا کہ سورۃ سجدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ( السجدۃ:۶) یعنی اللہ تعالیٰ امرِ اسلامی کو آسمان سے اتار کر زمین میں اپنی تدبیر کے ساتھ قائم کر ےگا۔مگر پھر و ہ اُس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھنا شروع کر دے گا جو تمہاری گنتی کے ہزار سالوں کے برابر ہوگا لیکن اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ اسلام کے غلبہ کے سامان پیدا فرمائےگا۔اور کفر کو تباہ کر دیا جائے گا۔چنانچہ اس موعود عذاب کا سورۂ مریم میں ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے کہ قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَيَعْلَمُوْنَ۠ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا( مریم :۷۶) یعنی تو انہیں کہہ دے کہ جو شخص گمراہی میں مبتلا ہو خدائے رحمٰن اُسے ایک عرصہ تک ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ جب ایسے لوگوں کے سامنے وہ سب کچھ ظاہر ہو جائےگا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے یعنی یا تو دنیوی عذاب یا کامل قومی تباہی تو اس وقت وہ جان لیں گے کہ کون ہے جو مکان کے لحاظ سے بد تر اور دوستوں کے لحاظ سے کمزور ہے۔یعنی اُس وقت نہ تو اُن کا تمدن اُن کو محفوظ رکھ سکے گا جس پر اُن کو بڑا ناز ہوگا اور نہ اُن کے دوست اور ساتھی اور مدد گار اُن کے کسی کام آئیںگے اُن کی دولت بھی اُن سے چھن جائیںگی اور اُن کے ساتھی بھی اُن سے الگ ہو جائیں گے۔اور وہ ہلاکت اور بر بادی کا شکار ہو جائیں گے۔