تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 196
ہے کہ تم عذاب کے لئے جلدی نہ کرو۔اللہ تعالیٰ ابھی تمہیں ایک ہزار سال تک اَور ڈھیل دینا چاہتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے اعمال بجالاتے ہو۔جب یہ ہزار سالہ دَور گذر جائےگا تو تمہیں اپنی بد اعمالیوں کی ایسی سزا ملے گی جو نہایت عبرت ناک ہو گی اور جس کے نتیجہ میں کفر کی صف ہمیشہ کے لئے لپیٹ دی جائےگی۔سورۃ طٰہٰ میں بھی اللہ تعالیٰ کفر کی اس تباہی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًا۔يَّتَخَافَتُوْنَ۠ بَيْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا( طٰہٰ :۱۰۳،۱۰۴) یعنی جس دن کہ بگل بجایا جائےگا اُس دن ہم مجرموں کو اس حالت میں اٹھائیں گے کہ اُن کی آنکھیں نیلی ہوںگی اور وہ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے کہیں گے کہ تم تو صرف دس صدیاں اس دنیامیں رہے ہو۔اس آیت میں مشرکوں کو نیلی آنکھوں کے ساتھ اٹھائے جانے سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اُس زمانہ میں شرک زیادہ تر نیلی آنکھوں والی قوموں یعنی یو روپین اور امریکن لوگوں میں ہوگا۔اور یہ لوگ صرف دس سو سال تک دنیا میں حکومت کرنے کی طاقت پائیں گے۔چنانچہ تیسری صدی سے ان لوگوں نے ترقی کرنی شروع کی اور چودھویں صدی میں آکر یعنی دس سو سال گذر نے کے بعد ان پر زوال آنا شروع ہوگیا۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ۲۷۱سنہء میں عیسائیوں نے سر اٹھانا شروع کیا تھا۔جس کی طرف سورۂ رعد کے ابتداء میں ہی الٓمٓرٰ کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا تھا۔۲۷۱ سنہ ءمیں دس صدیاں شامل کی جائیں تو ۱۲۷۱ بن جاتا ہے۔اب سن عیسوی نکالنے کے لئے ۱۲۷۱ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے کے ۶۲۱ سال شامل کئے جائیں تو ۱۸۹۲ بن جاتے ہیں۔اور چونکہ سورۂ رعد مکّی سورۃ ہے جو ہجرت سے دو تین سال پہلے نازل ہوئی تھی اس لئے ۱۸۹۲ سے اگر دو سال نکالے جائیں تو ۱۸۹۰ اور تین سال نکالے جائیں تو ۱۸۸۹ رہ جاتے ہیں اور ۱۸۸۹ء ہی وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لوگوں سے بیعت لی اور عیسائیت کی تباہی کی بنیاد رکھ دی گئی۔چنانچہ دیکھ لو عیسائی حکومتوں میں سے سب سے بڑی حکومت انگلینڈ کی تھی۔لیکن جب وہ زمانہ ختم ہوگیا اور اُن کی تباہی کا زمانہ آگیا تو ہندوستان سے وہ اس طرح بھاگے کہ اَب ہندوستان میں اُن کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا حالانکہ ہندوستان ہی سلطنت برطانیہ کے تاج کا ہیرا کہلاتا تھا۔یہ لوگ پہلے تو اپنی طاقت کے گھمنڈ میں یہ خیال کرتے تھے کہ ہم کبھی تباہ نہیں ہو سکتے۔جیسا کہ سورۂ کہف میں بتا یا گیا تھا کہ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً (الکہف :۳۷) یعنی ان لوگوں کی رُوح رواں یہ کہے گی کہ میں اس امر کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتی کہ ہم پر بھی تباہی کی گھڑی آنےوالی ہے۔مگر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا اور ان کی