تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 191
وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ۰۰۴۲وَ اِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ اور سب کاموں کا انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔اور اگر یہ (دشمن) تجھے جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح ؑ کی كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ۰۰۴۳وَ قَوْمُ قوم نے بھی اور عاد اور ثمود نے بھی اور ابراہیم کی قوم نے بھی اور لوطؑ کی قوم نے بھی اور مدین کے اصحاب اِبْرٰهِيْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ۰۰۴۴وَّ اَصْحٰبُ مَدْيَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ نےبھی (اپنے نبیوں کو) جھٹلایا تھا اور موسیٰ ؑ کی تکذیب بھی کی گئی تھی۔پس میں نے انکار کر نے والوں کو کچھ مُوْسٰى فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَيْفَ كَانَ ڈھیل دی پھر ان کو پکڑ لیا۔پس (سو چو کہ) میرا انکار کیسا خطر ناک تھا۔اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے اس نَكِيْرِ۰۰۴۵فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِيَ ظَالِمَةٌ حالت میں ہلاک کیا تھا کہ وہ ظلم کر رہی تھیں وہ آج اپنی چھتوں پر گِری پڑی ہیں۔اور کتنے کنوئیں ہیں جو بالکل فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ متروک ہیں اور کتنے اونچے اونچے قلعے ہیں جو بالکل تباہ ہو چکے ہیں۔کیا وہ زمین میں چل کر نہیں دیکھتے مَّشِيْدٍ۰۰۴۶اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ تا کہ اُن کو ایسے دل حاصل ہو جائیں جو (ان باتوں کو) سمجھنے والے ہوں یا کان حاصل قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا ہو جائیںجو( ان باتوں کو) سننے والے ہوں۔کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ ظاہری آنکھیں