تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 161
صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی مصر کی دولت اور کوشؔکامنافع اور سباؔ کے قد آور لوگ آئے۔گذشتہ انبیاء میں سے صرف حضرت مسیح ؑ کے متعلق عیسائی دعویٰ کرتے ہیں کہ شاید وہ اس پیشگوئی کے مصداق ہوں۔لیکن ان میں ایک بات بھی اِن باتوں میں سے نہیں پائی جاتی۔بیشک مصر پر رومیوں کا ایک عرصہ تک قبضہ رہا لیکن کوش کا منافع اُن کو نہیں ملا۔گو مسیحی مؤرخوں نے زور دےکر ایتھوپیا کو کوشؔ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے (The Dictionary of the Bible underword CUSH)۔مگر تازہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کوشؔ جس کا یسعیاہؔ میں ذکر آتا ہے وہ علاقہ ہے جو ایلام اور میڈیا کے درمیان میں واقع ہے۔ایلام کا علاقہ خلیج فارس کے کنارے کا دجلہ تک کا علاقہ ہے۔اور میڈیا کیسپین لیک کے جنوب کا علاقہ ہے (Encyclopedia Biblica underword CUSH)۔اس علاقہ کا منافع عیسائیوں کو کبھی نہیں ملا۔یعنی یہاں کے لوگوں نے مسیحیت کو قبول نہیں کیا۔اسی طرح سباؔ کے قد آور آدمی بھی مسیحی مقامات پر سجدہ کرنے کے لئے نہیں گئے۔اور اگر جائیں بھی تو وہ تثلیث کی تائید کرنے والے ہوں گے حالانکہ یسعیا ہ بتاتا ہے کہ اس پیشگوئی کے مصداق ایک خدا کی پرستش کے لئے اس شہر میں جمع ہوںگے اور وہاں یہ آوازیں دیتے ہوئے آئیں گے کہ اُس کے سوا کوئی خدا نہیں۔لیکن اسلام کو یہ سب باتیں حاصل ہیں۔کعبہ کو خدا کا گھر ماننے والے مصر میں بھی ہیں ، یمن میں بھی ہیں جس میں سباؔ واقع ہے اور کوش ؔ میں بھی ہیں اور یہاں سے ہزاروں لوگ ہر سال اس شہر کو جاتے ہیں جو خدا کا گھر کہلاتا ہے۔اور وہاں جا کر اس گھر میں جو خدا کا گھر کہلاتا ہے یہ کہتے ہوئے داخل ہوتے ہیں کہ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ ، اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ یعنی میں حاضر ہوں۔میں حاضر ہوں اے میرے اللہ میں حاضر ہوں۔تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔میں حاضر ہوں۔پس اس پیشگوئی میں بھی مکّہ مکرمہ کی طرف رجوعِ خلائق کا اشارہ پایا جاتا تھا۔جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پوری ہوئی۔اور اسی تعلق کے قیام کے لئے نماز میں بیت اللہ کی طرف مُنہ کر نے کا حکم دیا گیا۔بہرحال بیت اللہ ایک نہایت ہی پُرانا مقام ہے اور تاریخ بھی اس کے قدیم ہونے کی شہادت دیتی ہے۔چنانچہ سرولیم میور ’’ لائف آف محمد ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مکّہ کے مذہب کے بڑے اصولوں کو ایک نہایت ہی قدیم زمانے کی طرف منسوب کرنا پڑتا ہے گو ہیرو ڈوٹس مشہور یونانی جغرافیہ نویس نے نام لےکر کعبہ کا ذکر نہیں کیا مگر وہ عربوں کے بڑے دیوتائوں میں سے ایک دیوتا اِلا لات کا ذکر کرتا ہے (یعنی خداوئوں کا خدا) اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مکّہ میں ایک ایسی ہستی کی پرستش کی جاتی تھی جسے بڑے بڑے بتوں کا بھی خدا مانا جاتا تھا۔(The Life of Mahomad:introduction p۔14 )