تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 127
جائو۔ورنہ عمر ؓ میرے پیچھے آرہا ہے اور وہ تیری خبرلے گا۔چنانچہ حضرت عباس ؓ نے جو ابو سفیا ن کے گہرے دوست تھے اس کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔اور سواری کو دوڑاتے ہو ئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاپہنچے۔وہاں جاتے ہی ابو سفیان کو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں دھکا دیکر گر ا دیا۔اور عرض کیا یا رسول اللہ ابو سفیان بیعت کرنے کے لئے حاضر ہو ا ہے۔ابو سفیان اس نظارہ کو دیکھ کر اس قدر مبہوت ہو چکا تھا کہ اس کے منہ سے بات تک نہ نکلی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھا تو فرمایا عبا س! ابو سفیان کو اپنے ساتھ لے جائو اور رات کو اپنے پاس رکھو۔صبح اسے میرے پاس لانا۔جب صبح اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اُس وقت فجر کی نماز کا وقت تھا۔جب اُس نے دیکھا کہ ہزاروں مسلمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کبھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔کبھی رکوع میں چلے جاتے ہیں۔کبھی سجدہ میں گِر جاتے ہیں اور کبھی تشہد میں بیٹھ جاتے ہیں تو اُس نے اپنی بیوقوفی سے سمجھا کہ شاید یہ میرے لئے کوئی نئی قسم کا عذاب تجویز ہو رہا ہے۔اور میرے قتل کی تدبیریں ہو رہی ہیں۔چنانچہ اُس نے حضرت عبا س ؓ سے کہا کہ عباس ! یہ لوگ صبح صبح کیا کر رہے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو دس ہزار آدمی اُنکی اقتداء میں کھڑے ہو گئے۔وہ رکوع میں گئے تو دس ہزار آدمی رکوع میں چلے گئے۔وہ سجدہ میں گرے تو دس ہزار آدمی سجدہ میں گر گئے۔وہ تشہد میں بیٹھے تو دس ہزار آدمی تشہد میں بیٹھ گئے۔حضرت عبا س ؓ نے کہا یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں۔وہ حیران ہو کر کہنے لگا میں نے قیصر کا دربار بھی دیکھا ہے اور کسریٰ کا بھی۔مگر میں نے تو ان بڑے بڑے بادشاہوں کی بھی اس طرح اطاعت نہیں دیکھی جس طرح یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر رہے ہیں۔حضرت عباس ؓ نے کہا۔ابو سفیان تم تو یہ کہتے ہو ان لوگوں کی تو یہ کیفیت ہے کہ اگر محمدؐ رسول اللہ انہیں کہیں کہ کھانا پینا چھوڑ دو تو یہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیں۔نماز کے بعد حضرت عبا س ؓ ابو سفیان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔آپ نے ابو سفیان کو دیکھا اور فرمایا کہ ابو سفیا ن کیا ابھی تم پر وہ حقیقت روشن نہیں ہوئی کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ابو سفیان نے کہا۔میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔میں یہ بات اچھی طرح سمجھ چکا ہوں کہ اگر خدا کے سوا کوئی او ر بھی معبود ہوتا تو ہماری کچھ تو مدد کرتا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابو سفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم سمجھ لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ابو سفیا ن نے ترد د کا اظہار کیا۔مگرحضرت عباسؓ کے زور دینے کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ اُس کے دونوں ساتھیوں نے بھی بیعت کر لی تھی اُس نے بھی اسلام قبول کر لیا۔پھر اُس نے کہا یا رسول اللہ ! اگر مکّہ کے لوگ تلوار نہ اُٹھائیں تو کیا وہ امن میں ہوںگے ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں ہر شخص جو اپنے گھر کا