تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 126
میرے پاس آیا ہے اور وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ قریش نے بنو بکر کے ساتھ مل کر اُن پر حملہ کر دیا ہے اور اُن کے کئی آدمی مار ڈالے ہیں۔اب آپ معاہدہ کے مطابق ہماری مدد کریں اور مکّہ والوں پر چڑھائی کر یں۔اور میں نے انہیں کہا ہے کہ میں تمہاری مدد کے لئے بالکل تیار ہوں۔اب ادھر تو خزاعہ والوں نے اپنا وفد مدینہ بھجوا دیا اور اُدھر مکّہ والوں کو فکر ہوئی کہ اگر ہماری معاہدہ شکنی کی خبر مدینہ پہنچی تو مسلمان ہمار ا مقابلہ کر یں گے۔چنانچہ انہوں نے ابو سفیان کو مدینہ بھجوایا اور اُسے کہاکہ جس طرح بھی ہو سکے تم اس معاہدہ میں ردّ و بدل کروا دو تا کہ ہم پر معاہدہ شکنی کا کوئی الزام نہ آئے۔وہ مدینہ پہنچا اور اُس نے یہ زور دینا شروع کیا کہ چونکہ صلح حدیبیہ کے وقت میں موجود نہیں تھا اور میں مکّہ کا بڑا رئیس ہوں اس لئے میرے دستخطوں کے بغیر وہ معاہدہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اب میں چاہتا ہوں کہ نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی حاضر ہو ا اور حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے بھی ملا مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔آخر جب ہر طرف سے مایوس ہو گیا تو خود ہی مسجد میں کھڑے ہو کر اُس نے اعلان کر دیا کہ چونکہ میں اس معاہدہ میں شامل نہیں تھا اور میں مکہ کا رئیس ہوں اس لئے وہ معاہدہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اب میں نئے سرے سے معاہدہ کرتا ہوں۔مسلمان اُس کی اس بے وقوفی پر ہنس پڑے اور وہ سخت ذلیل اور شرمندہ ہوا اور ناکام مکّہ کو واپس چلا گیا۔اسی دوران میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ پر حملہ کرنے کے لئے دس ہزار کا لشکر تیار کر لیا اور آپ منزلوں پر منزلیں طے کرتے ہوئے رات کے وقت مکّہ کے قریب جا پہنچے اور آپ نے حکم دے دیا کہ ہر خیمہ کے آگے آگ روشن کی جائے۔ایک جنگل میں رات کے وقت دس ہزار آدمیوں کے خیموں کے سامنے بھڑکتی ہوئی آگ ایک ہیبت ناک منظر پیش کر رہی تھی۔مگر چونکہ آپ نے یہ تیاری نہایت مخفی رکھی تھی اس لئے مکّہ والوں کو اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ اسلامی لشکر اُن کے سامنے ڈیرہ ڈالے پڑا ہے لیکن اندر ہی اندر وہ سخت خوف زدہ تھے۔اور ابو سفیان کی ناکامی انہیں اور زیادہ پریشان کررہی تھی۔آخر انہوں نے دوبارہ ابو سفیان سے کہا کہ تم پھر مدینہ جائو اور مسلمانوں کے ارادوں کی خبر لو۔ابو سفیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ جب مکّہ سے باہر نکلا تو اُس نے سارے جنگل کو آگ سے روشن پا یا۔وہ حیران ہوا کہ یہ کون لوگ ہیں۔چنانچہ ابو سفیان نے اپنے ساتھیوں سے پُو چھا کہ یہ کیا ہے۔کیا آسمان سے کو ئی لشکر اُتر آیا ہے۔انہوں نے مختلف قبائل کے نا م لئے مگر ابو سفیان ہر نام پر کہتا کہ اس قبیلہ کے لوگ تو بہت تھوڑے ہیں اور اِن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اندھیرے میں آواز آئی۔ابو حنظلہ ! یہ ابو سفیان کی کُنیت تھی۔ابو سفیان نے آواز پہچان لی اور کہا۔عبا س !تم کہاں ؟ اُس نے کہا سامنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر پڑا ہے۔اگر تم اپنی جان کی خیر چاہتے ہو تو فوراً میرے پیچھے سواری پر بیٹھ