تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 125
حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ یوم القیامۃ سے مراد فتح مکّہ وغیرہ کی قسم کے واقعات ہیں جن میں مسلمانوں کو ایسا بین غلبہ میّسر آیا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے پُوچھا کہ بتائو اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔تو انہوں نے کہا آپ ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔گویا انہوں نے اقرار کر لیا کہ جس طرح یوسف ایک دن اپنے بھائیوں پر غالب آگیا تھا اسی طرح تجھے بھی خدا نے ہم پر غلبہ عطا کر دیا ہے۔پس ہم تجھ سے اس سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرما دیا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللہُ لَکُمْ وَ ھُو اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ اذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَاء ( السیرۃ الحلبیۃ ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکة شرفھا اللہ تعالیٰ) یعنی آج تم پر کوئی گرفت نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے قصورو ں کو معاف فرمائے کہ وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔جائو تم سب کے سب آزاد ہو۔قرآن کریم کی یہ آیت بتا تی ہے کہ قیامۃ کے لفظ کا استعمال اسلامی فتوحات کے لئے بھی کیا گیا ہے۔اسی طرحيٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ۔يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ میں فتح مکّہ کی پیشگوئی کی گئی ہے اور بتا یا گیا ہے کہ کفّا ر پر ایک قیامت نما زلزلہ آنے والا ہے۔جس کو دیکھ کر وہ ایسے سراسیمہ اور حیران ہوجائیں گے کہ انہیں اپنے بچائو کی کوئی صورت نظر نہیں آئے گی اور وہ بد مستوں کی طرح لڑھک رہے ہوںگے۔چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قریش مکّہ نے بنوبکر کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے معاہد قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا اور اُن کے کئی آدمی مار ڈالے تو بنو خزاعہ نے فوراً چالیس آدمی تیز اونٹو ں پر بٹھا کر مدینہ میں اس بد عہدی کی اطلاع دینے کے لئے روانہ کر دیئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ باہمی معاہدہ کے مطابق اب آپ ہمارا بدلہ لیں اور مکّہ پر چڑھائی کر یں۔یہ وفد ابھی مدینہ نہیں پہنچا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کشفی رنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکّہ والوں کی اس بد عہدی کی اطلاع دے دی۔چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ہاں باری تھی آپ رات کے وقت تہجد کے لئے اُٹھے۔جب آپ وضو کر رہے تھے تو میں نے سُنا کہ آپ نے بلند آواز سے فرمایا۔لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ! اور پھر آپ نے تین دفعہ فرمایا نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ ! حضرت میمونہ ؓ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے یہ کیا فقرات فرمائے ہیں۔یہ تو ایسے الفاظ ہیں جیسے آپ کسی سے گفتگو فرما رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ابھی دیکھا ہے کہ خزاعہ کا ایک وفد