تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 124
حرکات بھی اُن کے قبضہ میں نہیں ہونگی۔خطرناک جنگ میں بھی لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے۔چنانچہ اگر اس آیت کو جنگ پر ہی چسپاں کیا جائے تو میرے نزدیک اس کو فتح مکّہ پر چسپاں کرنا چاہیے۔اس سورۃ کا نا م بھی سورۃ الحج رکھا گیا ہے جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک عظیم الشان جنگ کے نتیجہ میں مسلمانوں کے لئے حج ممکن ہو جائے گا۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر سورتوں کے نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رکھے ہیں اور اس سورۃ کے تیسرے رکوع میں حج کا ذکر بھی آتا ہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بھی ذکر ہے جن کے ذریعہ حج بیت اللہ قائم ہوا۔پس یہ آیتیں ایک عظیم لڑائی پر دلالت کرتی ہیں۔جس کے بعد مسلمانوں کے لئے حج کا راستہ کھل جانا مقدر تھا۔بیشک ا س آیت میں زَلْزَلَةَ السَّاعَةِِ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن سے بادیٔ النظر میں یہ شبہ پید ا ہوسکتا ہے کہ شاید اس میں عالمِ آخرت کے اُس عذاب کا ذکر کیا گیا ہے جو کفار کے لئے مقّدر ہے لیکن یہ درست نہیں۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ساعۃ کا لفظ صرف اُخروی قیامت کے لئے استعمال نہیں کیا گیا بلکہ انبیاء کی جماعتوں کی ترقی اور اُن کے دشمنوں کی تباہی کے لئے بھی ساعۃ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔مثلاً سورۃ بقرہ میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَ يَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ( البقرۃ :۲۱۳) یعنی جن لوگوں نے کفر اختیا ر کیا ہے انہیں دنیوی زندگی خوبصورت کرکے دکھائی گئی ہے۔اور وہ اُن لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں ہنسی اور تمسخر کرتے ہیں حالانکہ جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے وہ اِن کفار پر قیامت کے دن غالب ہوںگے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔اس آیت میں بتا یا گیا ہے کہ کفار اس دُنیا کی زندگی کو ہی اپنا منتہیٰ قرار دیتے ہیں اور انہیں اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ ہے۔حالا نکہ اصل چیز انجام ہے اور انجام مسلمانوں کا اچھا ہوگا اور وہ قیامت کے دن اِن کفار پر غالب آجائیں گے۔اب اگر اس کے یہ معنے کئے جائیں کہ مرنے کے بعد اگلی زندگی میں مسلمانو ں کو کفار پر غلبہ میسر آجائیگا تو یہ معنے کفار کے لئے اسلام کی صداقت کا کوئی ثبوت نہیں رہتے۔وہ تو کہیں گے کہ یہ تمہاری اپنی خوابیں ہیں۔ہمیں تو نہ مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین ہے اور نہ ہم یہ مان سکتے ہیں کہ تمہیں اُس زندگی میں ہم پر کوئی غلبہ میسر آئےگا۔یہ محض زبانی دعوے ہیں جن میں کوئی حقیقت نہیں۔پھر یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ جب مرنے کے بعد ایمان لانا کسی انسان کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا تو کفار کے سامنے مسلمانوں کے اس غلبہ کو پیش کرنے کا فائدہ کیا ہو گا۔پس یہ آیت اگر عالم آخرت پر چسپا ں کی جائے تو اس کے کوئی معنے ہی نہیں بنتے اور نہ یہ اسلام کی صداقت کا کوئی ثبوت قرار پا سکتا ہے۔