تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 123

سے پہلے دیواریں گِر جاتی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انسانی سِروں ، ہاتھوں اور بازوئوں کی بارش ہو رہی ہے۔‘‘(’’پرتاپ ‘‘لاہور ۲۶؍جنوری۱۹۳۴ء؁ ) مونگھیر کی تباہی کے متعلق ایک شخص نے اپنا چشم دید ماجرا بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اُس وقت ’’ زمین میں دائیں اور بائیں دو حرکتیں ہوئیں بعد ازاں ایسا معلوم ہوا کہ کسی نے زمین کو چرخی پر رکھ کر گھما دیا ہے۔میرے ہوش و حواس زائل ہوگئے۔آدھ گھنٹہ کے بعد سنبھلا تو ایک عجیب منظر میرے سامنے تھا۔جہاں تک نظر جاتی تھی کھنڈر ہی کھنڈر دکھائی دیتے تھے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میں مونگھیر میں نہیں۔شہر کی حالت اتنی تبدیل ہوگئی تھی کہ میں اپنا گھر بھی نہ پہچان سکا۔‘‘ ( ’’انقلاب‘‘ یکم فروری۱۹۳۴ء؁ ) اخبار ’’ ملاپ ‘‘ کے ایڈیٹر نے لکھا کہ ’’ باپ بچوں کی تلاش میں سرگردان ہیں۔بچے اپنے ماتا پتا کو تلاش کر رہے ہیں۔گِرے ہوئے مکانات میں جو بچے بچ رہے ہیں وہ ایک ایک اینٹ اُٹھا کر دیکھ رہے ہیں کہ اُن کے ماتا پتا نیچے سے نظر آسکیں اور انہیں پیا ر سے بلا سکیں لیکن بھونچال نے کس کو زندہ رہنے دیا ہے۔جب مکان کھودتے کھودتے لاش نکلتی ہے تو پھر چیخ و پکار کا کیا ٹھکانہ۔پتھر سے پتھر دل بھی روتا ہے۔‘‘ ( ’’ ملاپ ‘‘۲۵؍جنوری۱۹۳۴ء؁ ) یہی حال جنگ میں بھی ہوتا ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ جنگ میں ایک عورت کو دیکھا جو دیوانہ وار دوڑی پھرتی تھی۔اُس کا بچہ کہیں گُم ہو گیا تھا۔وہ کبھی ایک بچہ کو اُٹھاتی اور کبھی دوسرے کو اور پھر پاگلوں کی طرح اپنے بچہ کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی۔یہاں تک کہ اُسے اپنا بچہ نظر آگیا۔اُس نے لپک کر اُسے گود میں اُٹھا لیا۔اُس سے پیا ر کرنے لگی اور پھر آرام اور سکون سے بیٹھ کر اُسے دودھ پلانے لگ گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نظارہ دیکھا تو فرمایا کہ تم نے جو اس عورت کی گھبراہٹ کا نظارہ دیکھا ہے اس سے کہیں زیادہ گھبراہٹ اللہ تعالیٰ کو اپنے گنہگار بندے کے پانے کی ہوتی ہے۔( مسلم کتاب التوبۃ باب فی وسعة رحمة اللہ تعالیٰ و انھا تغلب غضبہ( یہ جو کہا گیا ہے کہ تُو ان لوگوں کو شراب سے متوالے دیکھے گا حالانکہ وہ شراب سے متوالے نہیں ہونگے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح متوالے کی حرکات اس کے قبضے میں نہیں ہوتیں اسی طرح ڈر کی وجہ سے ان لوگوں کی