تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 122
چسپاں کیا جائے۔بلکہ شدید جنگوں یا زلزلوں میں بھی یہ حالت پیش آتی رہتی ہے۔جب ضلع کانگڑہ میں۱۹۰۵ء کا زلزلہ آیا جس سے تیس ہزار کے قریب آدمی مر گئے تھے اور جو زخمی ہوئے اُن کی تعداد اس سے بہت زیادہ تھی اور گائوں کے گائوں اس طرح مٹ گئے کہ ان کا نام و نشان نہ رہا اور تمام پنجاب ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہل گیا تو اُس وقت لوگوں کا بالکل یہی حال ہو ا تھا۔اسی طرح ۱۹۳۵ء میں جب کوئٹہ میں زلزلہ آیا اور مجروح اور زلزلہ سے بچے ہوئے لوگ سپیشل ٹرینوں کے ذریعہ واپس آتے تو لوگ دیوانہ وار روتے ہوئے سٹیشنوں پر اِدھر اُدھر اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں دوڑے پھرتے اور جب انہیں اپنا کوئی رشتہ دار نظر نہ آتا تو ان کے نالہ وبکا سے ماتم برپا ہو جاتا۔ایک اخبار کے نامہ نگار نے لکھا کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا وہ اس طرح اسٹیشن پر پھر رہی تھی جس طرح ایک شرابی نشہ میں مدہوش ہو کر لڑھکتا پھرتا ہے۔وہ کبھی دائیں گِرتی کبھی بائیں اور روتے ہوئے کہتی کہ سارے ہی مرگئے کوئی بھی نہیں بچا۔بعض لوگوں نے بیان کیا کہ جب مصیبت زدہ لوگوں سے پوچھا جاتا تو وہ جواب دینے کی بجائے چیخیں مار کر روپڑتے پھر کئی آدمی اس صدمہ کی وجہ سے پاگل ہوگئے۔ان دنوں اخبارات میں چھپاتھا کہ کوئٹہ سے ملتان کو گاڑی آرہی تھی کہ راستہ میں دو عورتیں شدت غم کی وجہ سے پاگل ہوگئیں۔ایک اور شخص بھی دیوانہ ہوگیا اور اُس نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی۔غرض یہ ایک ایسا درد ناک نظارہ تھا کہ اس نظارہ کو دیکھنے والے توکیا پڑھنے والے بھی ششدر رہ جاتے تھے اور اُن کے دل کرب و اضطراب سے بھر جاتے تھے (اخبار انتخاب لاجواب لاہور ۲۷ ؍اگست ۱۹۳۵ء)۔اسی طرح ۱۵؍ جنوری ۱۹۳۴ء کو جب بہار میں ایک قیامت نما زلزلہ آیا جس کے متعلق لارڈ ریڈنگ سابق وائسرائے ہند نے لنڈن میں ایک تقریر کرتے ہوئے چشم پُر آب ہو کر کہا تھاکہ ــ’’ یہ زلزلہ ایسا ہیبت ناک ہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔‘‘ ( اخبار سو ل اینڈ ملٹری گزٹ، ۱۰؍فروری ۱۹۳۴ء) تو اُس وقت بھی لوگوں کی یہی کیفیت ہوئی تھی۔اخبار ’’ حقیقت ‘‘ لکھنٔو نے لکھا کہ ’’ انسان تو انسان حیوان بھی اس قہر ِ خدا سے حواس باختہ ہوگئے تھے۔اور درندے نہایت بدحواسی سے آدمیوں کے پاس بھاگتے ہوئے جا رہے تھے۔‘‘(’’ حقیقت ‘‘لکھنو۱۸؍ جنوری۱۹۳۴ء ) ’’ امرت بازار پتر کا ‘‘ کے نامہ نگار نے لکھا کہ ’’ میں نے کئی آدمیوں کو کھڑکیوں سے چھلانگیں لگاتے دیکھا۔مگر اُن کے نیچے آنے