تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 8
جوشخص ابھی مانتا ہی نہیں اس پر افسوس کس بات کاکہ وہ غفلت میں پڑا ہوا ہے وہ تو یہ سن کر ہنسے گا کہ میں تو مانتاہی نہیںپھر مجھ پر افسوس کیسا ہورہا ہے ؟ اس کے متعلق یاد رکھناچاہیے کہ اقترب کے لفظ سے معلوم ہوتاہے کہ عذاب کے ابتدائی آثار ظاہر ہو رہے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو نہیں مانتے انہیںاتنا تو سوچنا چاہیے کہ اس عذاب سے بچنے کاکیا طریق ہے اور کیوں اس کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔آخر اس کی کوئی وجہ تو ہونی چاہیے مگر چونکہ یہ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور اتنا بھی نہیںسوچتے اس لئے معلوم ہو ا کہ یہ لوگ غفلت میںپڑے ہوئے ہیں۔اس زمانہ میں بھی بعینہ یہی حالت ہے عذاب کے نشان پے درپے ظاہر ہو رہے ہیں۔اطمینان قلب کسی کو بھی حاصل نہیں لیکن باوجود اس کے کوئی نہیںدیکھتاکہ اس کی کیا وجہ ہے اور فتنہ و فساد کے اصل منبع کی طرف کوئی توجہ نہیںکی جاتی لوگ یہی چاہتے ہیںکہ جوتکلیف یا روک ہمارے سامنے ہے وہ کسی طرح ہٹ جائے۔نتیجہ یہ ہے کہ وہ عذاب میںدن بدن زیادہ پھنس رہے ہیںاور جب تک وہ مصائب کے اصل منبع کو بند کرنے کی کوشش نہیں کریںگے۔یہی حالت جاری رہے گی۔مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کبھی کوئی نئی یاد دہانی نہیںآتی مگر وہ اسے سنتے بھی جاتے ہیںاو راس هُمْ يَلْعَبُوْنَۙ۰۰۳لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ١ۖۗ سے ہنسی مذاق بھی کرتے جاتے ہیںان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ چپکے چپکے مشورے کرتے ہیں(او رکہتے ہیں)کہ (دیکھتے نہیں) یہ شخص تم جیسا ہی ایک بشر ہے پھر کیا تم اس کی السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۰۰۴ فریبانہ باتوں میں آتے ہو حالانکہ تم خوب سمجھتے ہو۔حلّ لُغَات۔اَلذِّکْرُ کے معنے ہیں التَّلَفُّظُ بِالشَّیْءِکسی چیز کاتلفظ کرنا۔نیز اس کے معنے ہیں