تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 91

حاصل ہے کہ وہ اپنے بندوں سے پیار اور محبت کی گفتگو کرے۔دنیا میں بسا اوقات اپنے کسی عزیز یا دوست کے بچہ کو جب انسان دیکھتا ہے تو کہہ دیتا ہے تو میرا بچہ ہے اب یہ تو نہیںہوتا کہ وہ بعد میں ورثہ کا دعویٰ کرد ے اور کہے فلاں فلاں اس بات کے گواہ ہیں کہ اس نے ان کے سامنے مجھے اپنا بچہ قرار دیا تھا۔ہر شخص جانتا ہے کہ یہ محبت اور پیار کے الفاظ ہوتے ہیں اسی طرح مائیں اپنے بچوں کا ذکر کرتی ہیں تو کہتی ہیں۔ہائے میرا کلیجہ۔ہائے میرا دل۔ہائے میری آنکھوں کی ٹھنڈک۔اب اس کا یہ مطلب تو نہیںہوتا کہ وہ بچہ سچ مچ ان کا کلیجہ یا دل یا آنکھیں ہوتا ہے یا عورت مر جائے تو ساتھ ہی بچے کو بھی دفن کر دیا جائے اور کہا جائے کہ یہ بچہ تو ہے ہی نہیں۔یہ تو اس عورت کا کلیجہ یا دل تھا۔کیا دنیا میں کبھی کسی نے ایسی حماقت کی ہے ہر شخص جانتا ہے کہ یہ محبت اور پیار کے الفاظ ہوتے ہیں۔اسی قسم کے الفاظ خدا تعالیٰ بھی اپنے پیاروں کے متعلق استعمال کر لیتا ہے اور بعض دفعہ ان کو اپنا بچہ کہہ دیتا ہے جیسے اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہا یا جیسے اس نے اور کوئی نبیوں کو کہا پس کسی کو بیٹا کہنے کے یہ معنے نہیں کہ اب خدائے واحد نہیں رہا یا نعوذ باللہ دو یا تین خدا ہو گئے ہیں۔غرض یہ حوالہ بھی بتاتا ہے کہ مسیح ؑکے نزدیک خدا اور ہے اور وہ اور۔چنانچہ خدائے واحد کے وجود کا الگ ذکر کیا گیا ہے اور مسیح کا الگ ذکر کیا گیا ہے اگر مسیح خدا ہوتا تو اس کے علیحدہ ذکر کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔خدائے واحد میں باپ خدا بھی آ جاتا، بیٹا خدا بھی آ جاتا اور روح القدس خدا بھی آ جاتا۔مگر اسے خدائے واحد سے الگ کیا گیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے وجود میں شامل نہیںپس ان حوالوں سے ثابت ہوا کہ جب مسیح کو خدا کا بیٹا کہا گیا تو اس سے مراد حقیقتاً بیٹا نہ تھا بلکہ اسے استعارہ کے طور پر بیٹا کہا گیا تھا۔پھر مسیحی عقیدہ یہ ہے کہ مسیح خدا کی طرح بے جسم ہے (یوحنا باب ۱۴ آیت ۱) جب وہ اس دنیا میں آیا تو اس نے لوگوں کے لئے جسم اختیار کیا ورنہ خدا کے بیٹے کا کوئی جسم نہیں جیسے باپ خدا کا کوئی جسم نہیں یا جیسے روح القدس خدا کاکوئی جسم نہیں۔اسی طرح بیٹے کا بھی کوئی جسم نہیں۔جب وہ اس دنیا میں آیا تاکہ بنی نوع انسان کے گناہوں کی خاطر صلیب پر لٹک جائے تو اس نے اپنے لئے ایک جسم اختیار کر لیا۔گویا جسم اختیار کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بنی نوع انسان کے بدلہ میںپھانسی پر لٹک جائے اور ایک دفعہ موت اختیار کرے کیونکہ موت کو گناہ کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے جب مسیح نے دوسروں کا گناہ اٹھا لیا تو اس پرموت آنی لازمی تھی۔مگر جب موت آ گئی تو اس کے بعد وہ سکیم جو بنی نوع انسان کے گناہ معاف کرانے کے لئے اختیار کی گئی تھی ختم ہو گئی۔اب اگر عیسائیوں کا یہ دعویٰ صحیح ہے تو ضروری تھا کہ مسیح ؑ جب دوبارہ زندہ ہوا تو اس کے ساتھ اس کا جسم نہ ہوتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی غرض پوری ہو چکی تھی۔