تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 90

نہیں چاہتے کیونکر ایمان لا سکتے ہو۔‘‘ عیسائیت ہمارے سامنے تثلیث پیش کرتی ہے لیکن مسیح صاف طور پر خدائے واحد کا لفظ استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے تم جو ایک دوسرے سے عزت چاہتے ہو اور وہ عزت جو خدائے واحد کی طرف سے ہوتی ہے نہیں چاہتے کیونکر ایمان لا سکتے ہو۔اسی طرح یوحنا باب ۱۷ آیت ۳ میں لکھا ہے:۔’’ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جانیں۔‘‘ یہاں سے ایک اور بات بھی ثابت ہوئی۔پہلا حوالہ جو یوحنا باب ۵ کا تھا اس کا ایک بودہ سا جواب مسیحی دے سکتے تھے اور وہ یہ کہ جب ہم خدائے واحد کالفظ استعمال کرتے ہیں تو ہماری مراد اقنوم ثلاثہ سے ہوتی ہے جس میں خدا باپ بھی شامل ہے خدا بیٹا بھی شامل ہے اور خدا روح القدس بھی شامل ہے اور وہ کہتے بھی یہی ہیں کہ ’’ تین ایک ہیں اور ایک تین ‘‘ پس وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم بھی تین کو ایک سمجھتے ہیں اور خدائے واحد سے مراد خدا باپ ، خدا بیٹا اور خدا روح القدس کا مجموعہ ہے۔اس جواب کو یوحنا کے اوپر کے حوالہ نے رد کر دیا۔کیونکہ یہاں مسیح کا ذکر خدائے واحد سے الگ کر کے کیا گیا ہے۔الفاظ یہ ہیں :۔’’ اور ہمیشہ کی زندگی یہی ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جانیں۔‘‘ اس جگہ خدائے واحد کی جو اصطلاح استعمال کی گئی ہے اس میں مسیح شامل نہیں۔پس معلوم ہوا کہ مسیح سے علیحدہ ہو کر خدائے واحد بنتا ہے اس کے ساتھ مل کر نہیں اور توحید اسی کا نام ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے نہ بیٹے کو نہ روح القدس کو اور نہ کسی اور کو۔غرض اس حوالہ نے بھی بتا دیا کہ بیٹے کا لفظ ایک استعارہ تھا جو مسیح کے متعلق استعمال کیا گیا تھا اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ وہ خدا کا شریک تھا بلکہ یہ ویسا ہی ایک پیار کا کلمہ تھا جیسے مائیں اپنے بیٹے کو کہتی ہیں کہ یہ میرا بیٹا میرے جگر کا ٹکڑہ اور میرا دل ہے جس طرح بندوں کو حق حاصل ہے کہ وہ پیار میں اس طرح کلام کریں اسی طرح خدا کو بھی حق