تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 89

ہوتی ہے(جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۱۳۶)۔عیسائیوں کو اور تو کوئی جواب نہ سوجھا۔انہوں نے بائبل کے نئے اردو ایڈیشنوں میں ان الفاظ کی بجائے یہ الفاظ لکھ دئیے کہ :۔’’ تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے نیک تو ایک ہی ہے‘‘ گویا یہ ظاہر کیا کہ حضرت مسیح نے اسے یہ جواب د یا تھا کہ تو مجھ سے نیکی کی بات کیوں سوال کر رہا ہے نیک تو صرف خدا ہے حالانکہ تمام انگریزی بائبلوں میں اور تمام یونانی اور جرمن بائبلوں میں اور اردو کی تمام پرانی بائبلوں میں یہ الفاظ تھے کہ ’’ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا ‘‘ اس قسم کی سترہ اٹھارہ تبدیلیاں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعتراضات کے نتیجہ میں عیسائیوں نے بائبل میں کی ہیں۔بہرحال کہنے والے نے یہی کہا کہ اے نیک استاد میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں۔اور حضرت مسیح ؑ نے اسے کہا کہ ’ ’ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا ‘‘ اس حوالہ سے دو باتیں نکل آئیں۔اول خدا میں نیکی ہے کیونکہ بغیر نیکی کے وہ خدا ہی نہیں ہو سکتا دوم مسیح ؑ میں نیکی نہیں اور ان دو باتوں کا یہ لازمی نتیجہ نکل آیا کہ چونکہ مسیح میں نیکی نہیں اس لئے وہ خدا نہیں۔اسی طرح متی باب ۲۴ آیت ۳۲ تا ۳۷ میں لکھا ہے:۔’’ اب انجیر کے درخت سے ایک تمثیل سیکھو جونہی اس کی ڈالی نرم ہوتی اور پتے نکلتے ہیں تم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدیک ہے اسی طرح جب تم ان سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وہ نزدیک بلکہ دروازہ پر ہے (یعنی مسیح کی آمد ثانی) میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہوگی آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی لیکن اس دن (یعنی مسیح کی آمد ثانی کے دن) اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔‘‘ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ مسیح اپنے عالم الغیب ہونے سے انکار کرتا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت اس کا عالم الغیب ہونا بھی ہے پس جب مسیح کہتا ہے کہ میں علم غیب نہیںجانتا اور مستقبل کے حالات کا مجھے علم نہیں۔تو دوسرے الفاظ میں وہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ جب میں اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہتا ہوں تو میں حقیقتاً نہیں کہتا بلکہ صرف استعارۃً کہتا ہوں۔یعنی میری مراد صرف اتنی ہوتی ہے کہ میں خدا کا پیارا ہوں۔اسی طرح انجیل میں خدائے واحد کے لفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔یوحنا باب ۵ آیت ۴۴ میں لکھا ہے۔’’ تم جو ایک دوسرے سے عزت چاہتے ہو اور وہ عزت جو خدائے واحد کی طرف سے ہوتی ہے