تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 77

ساری بنیاد اس بات پر ہے کہ مسیح نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا اور چونکہ اس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا اس لئے خدا کا بیٹا ہو گیا ہم کہتے ہیں یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا۔لیکن سوال یہ ہے کہ خدا کا بیٹا کوئی اصطلاح ہے یا یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے جن معنوں میں عام طور پر یہ لفظ ہماری زبان میں بولا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ زید کا بیٹا یا عمرو کا بیٹا یا خالد کا بیٹا یا اس کے کوئی اور معنے ہیں۔جہاں تک اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہنے کا تعلق ہے جب ہم انجیل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں حضرت مسیح ؑ کے یہ الفاظ نظر آتے ہیں کہ ’’ہاں اے باپ کیونکہ ایسا ہی تجھے پسند آیا۔میرے باپ کی طرف سے سب کچھ مجھے سونپا گیا اور کوئی بیٹے کو نہیں جانتا سِوا باپ کے اور کوئی باپ کو نہیں جانتا سِوا بیٹے کے اور اس کے جس پر بیٹا اسے ظاہر کرنا چاہیے۔‘‘ (متی باب ۱۱ آیت ۲۶۔۲۷) یہاں مسیح نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا ہے جہاں تک لفظوں کا تعلق ہے ہم مانتے ہیں کہ خدا کے بیٹے کے الفاظ انجیل میں مسیح کے متعلق آئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مسیح کو بیٹا کہنے کے وہی معنے ہیں جو جسمانی بیٹے کے ہوتے ہیں یا اس کے کچھ اور معنے ہیں۔اسی طرح یوحنا باب ۳ آیت ۱۷ میں آتا ہے:۔’’ خدا نے بیٹے کو دنیا میں اس لئے نہیںبھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اس لئے کہ دنیا اس کے وسیلہ سے نجات پائے۔‘‘ یہاں مسیح نے پھر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک ایسی بات کہی ہے جو انجیل کے ایک دوسرے حوالہ کے خلاف ہے۔یہاں وہ کہتے ہیں ’’خدا نے بیٹے کو دنیا میں اس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اس لئے کہ دنیا اس کے وسیلہ سے نجات پائے ‘‘لیکن دوسری جگہ لوقا باب ۲۰ آیت ۹ تا ۱۶ میں حضرت مسیح ؑ ایک تمثیل بیان کرتے ہیں جو باغ کی تمثیل کہلاتی ہے۔اس میں وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے باغ لگایا اور اسے کرایہ پر دے دیا جن لوگوں کو وہ باغ کرایہ پر دیا گیا تھا ان کے پاس باغ کے مالک نے اپنا ایک نوکر بھیجا تاکہ وہ پھل کا حصہ دے دیں۔لیکن باغبانوں نے اسے مارا اور خالی ہاتھ واپس کر دیا پھر اس نے ایک دوسرا نوکر بھیجا مگر انہوں نے اس کو بھی پیٹ کر نکال دیا پھر اس نے ایک تیسرا نوکر بھیجامگر انہوں نے اس کو بھی مارا اور زخمی کر کے نکال دیا۔……… اس پر باغ کے مالک نے کہا اب میں اپنے اکلوتے بیٹے کو بھیجتا ہوں شاید باغبان اس کا لحاظ کریں