تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 76
ح معاف کرسکتا ہے لیکن انجیل میں لکھا ہے کہ ’’ یسو ع نے ان کے خیال معلوم کر کے کہا کہ تم کیوں اپنے دلوں میں برے خیال لاتے ہو۔آسان کیا ہے یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے یا یہ کہنا کہ اٹُھ اور چل پھر۔‘‘(متی باب ۹ آیت ۴،۵) یعنی ان دونوں میں سے کون سی آسان بات ہے۔ایک مفلوج کو یہ کہہ دینا کہ اُٹھ اور چل پھر یہ آسان ہے یا ایک گنہگار کو یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے یہ آسان ہے مسیحیت کی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اٹھ اور چل پھر کہنا زیادہ آسان ہے اور یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے ناممکن ہے۔لیکن حضرت مسیح کے متعلق انجیل بتاتی ہے کہ انہوں نے کہا۔’’ اس لئے کہ تم جان لو کہ ابن آدم کو زمین پر گناہ معاف کرنے کا اختیار ہے (اس نے مفلوج سے کہا) کہ اٹھ اپنی چارپائی اٹھا اور اپنے گھر چلا جا۔وہ اٹھ کر اپنے گھر چلا گیا لوگ یہ دیکھ کر ڈر گئے اور خدا کی تمجید کرنے لگے جس نے آدمیوں کو ایسا اختیار بخشا۔‘‘ (متی باب ۹ آیت ۶تا۸) گویا پہلے حضرت مسیح ؑ کے گناہ معاف کرنے کے فقرہ پر لوگ حیران ہوئے کہ کیا آدم زاد بھی لوگوں کے گناہ معاف کر سکتا ہے مسیح ؑ نے کہا اس لئے کہ تم جان لو کہ ابن آدم کو زمین پر گناہ معاف کرنے کا اختیار ہے میں اس مفلوج سے یہ کہتا ہوں کہ اٹھ اپنی چارپائی اٹھا اور اپنے گھر چلا جا۔اس پر وہ اور حیران ہوئے اور اس خدا کی تمجید کرنے لگے جس نے آدمیوں کو ایسا اختیار بخشا ہے یہ واقعہ جو انجیل میں آتا ہے بتاتا ہے کہ گناہ معاف کرنا اور کسی بیمار سے یہ کہنا کہ اٹھ اور اپنے گھر چلا جا یہ معجزہ آدمیوں کا ہے خدا کا نہیں۔اسی طرح یوحنا باب ۸ آیت ۱ تا ۱۱ میں ایک زانیہ عورت کا قصہ درج ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس عورت کو مسیح نے معاف کر دیاحالانکہ وہ مسیح یا اس کے کفارہ پر ایمان نہیں لائی تھی۔باقی رہا یہ امر کہ اگر خدا کے بیٹے کے ذریعہ ہی گناہ معاف ہو سکتا ہے تو کیامسیح ؑ خدا کا بیٹا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی دلیل اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ مسیح نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مسیح میں خدائی صفات بھی پائی جاتی تھیں ؟ مثلاً ہم جب کہتے ہیں کہ خدا ہے تو اس کی ہستی کے دلائل بھی پیش کرتے ہیں اور وہ مختلف قوتیں اور طاقتیں جو انسان میں نہیں پائی جاتیں اس کی ہستی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔لیکن مسیحی کوئی ایسی چیز پیش نہیں کرتے جو اور نبیوں میں تو نہ پائی جاتی ہو اور مسیح میں پائی جاتی ہو بلکہ بہت سی باتیں بائبل میں نبیوں کے متعلق ایسی پائی جاتی ہیں جو مسیح ؑ میں نہیں پائی جاتیں۔مگریہ ایک الگ بحث ہے سوال یہ ہے کہ مسیحیت کی