تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 75

قربانی قبول نہیں ہوئی۔پس وہ اس کا بدلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت سے لینا چاہتے ہیں۔پھر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے قابیل سے کہا تھا کہ’’ اگر تو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے۔‘‘ آج کل ہمیں وہی نظارہ نظر آ رہا ہے۔عیسائی دنیا میں اس کثرت کے ساتھ گناہ پایا جاتا ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں۔بہرحال بائبل کے نزدیک انسان بعد از گناہ آدم بھی نیک ہو سکتا تھا اور یہ کہ گناہ کا بیج اس کے دل میں نہیں بویا گیا تھا۔بلکہ اس وقت بھی وہ باہر سے آتا تھا اور اگر وہ گناہ کر بیٹھتا تھا تب بھی اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا تھا اور آئندہ گناہ پر غالب آنے کا امکان اس کے لئے موجود تھا۔بلکہ نہ صرف وہ گناہ پر غالب آنے کی طاقت رکھتا تھا بلکہ وہ خدا تعالیٰ کا مقبول ہونے کی بھی طاقت رکھتا تھا۔پس وہ کیفیت جس کے نتیجہ میں کفارہ کی ضرورت مسیحی بتاتے ہیں بائبل کے بیان کے رُو سے موجود ہی نہیں۔ایک سوال کفارہ کے متعلق یہ پیدا ہوتا ہے۔کہ فرض کرو دنیا میںنیکی موجود نہیں تھی اور فرض کرو کہ کفارہ کی ضرورت تھی۔پھر بھی کیا اس کفارہ کے لئے خدا تعالیٰ کے بیٹے کی ضرورت تھی؟ اور دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسیح خد اکا بیٹا تھا؟ یہ سوال کہ کفارہ کی ضرورت تھی۔اس کے لئے ہم خود مسیح ؑکی کتاب کو دیکھتے ہیں۔بائبل اس بات کو مانتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء مختلف معجزات دکھاتے رہے ہیں۔اس کے نزدیک نبی مرد ے زندہ کرتے تھے۔نبی بیماروں کو اچھا کرتے تھے۔نبی تھوڑے سے کھانے کو بڑھا دیتے تھے اسی طرح اور قسم قسم کے معجزات دکھاتے تھے۔لیکن مسیحی کہتے ہیں ( میں مسیحیوں کا لفظ اس لئے استعمال کرتا ہوں کہ بہت سی باتیں مسیحی اپنے پاس سے کہہ دیتے ہیں اور باوجود اس کے کہ انجیل بگڑ چکی ہے۔پھر بھی ان باتوں کا انجیل سے ثبوت نہیں ملتا) کہ گناہ کا معاف کرنا یہ انسانی طاقت سے بالا ہے۔انبیاء بے شک مرد ےزندہ کر لیتے تھے۔جیسا کہ ایلیا ہ نبی اور الیسع کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے مردے زندہ کئے (۱۔سلاطین باب ۱۷ آیت ۲۲ ونمبر۲ سلاطین باب ۴ آیت ۳۵) مگر گناہ کا معاف کر دینا یہ ناممکن تھا اور اس کے لئے بیٹے کے کفارہ کی ضرورت تھی۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا انجیل اس عقیدہ کی تصدیق کرتی ہے۔انجیل میں لکھا ہے کہ لوگ ایک مفلوج کو چارپا ئی پر پڑا ہوا مسیح ؑ کے پاس لائے۔مسیح ؑ نے اسے دیکھا اور کہا۔’’ بیٹا خاطر جمع رکھ تیرے گناہ معاف ہوئے۔‘‘ (متی باب ۹ آیت ۲) اس پر لوگ حیران ہوگئے کہ کیا یہ گناہ معاف کرتا ہے۔یہی بات آج کل مسیحیت کہتی ہے کہ انسان گناہ کس