تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 74
مسیحیت کہتی ہے کہ آدم کے گناہ کے بعد گناہ انسان کے دل میں بویا گیا۔ورثہ کے بھی یہی معنے ہوتے ہیں۔مگر بائبل کہتی ہے کہ گناہ اس کے دل میں نہیں گیا بلکہ وہ اس کے گھر کے دروازہ کے باہر دبکا بیٹھا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ا نسان کے دل میں نہیں بلکہ باہر سے آتا ہے۔پس بائبل کے نزدیک آدم کے گناہ کے بعد گناہ کا بیج انسان کے دل میں نہیں بویا گیا بلکہ ہر انسان کے دروازہ کے باہر دبکا بیٹھا ہے۔گویا گناہ ایک خارجی شئے ہے نہ کہ ورثہ کی چیز جو جزو بدن ہو جاتی ہے۔چہارم پھر لکھا ہے:۔’’ پر تو اس پر غالب آ‘‘ یعنی اے قائن تو اس پر غالب آ۔جب خدا کہتا ہے تو ایسا کر۔تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے ایک چھوٹے بچے کو پیار میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے (سوائے اس کے کہ ہم غلط مذاق کر رہے ہوں) کہ جا اور موٹر کو اٹھا لا یاجا اور ہاتھی کو پکڑ لا۔ہم اسے وہی بات کہیں گے جو اس کی طاقت کے اندر ہو گی۔اگر دفتر میں ہی کوئی افسر اپنے چپڑاسی کو بلائے اور کہے کہ جیکب آباد کی طرف جو انجن جاتا ہے وہ اٹھا کر لے آ۔تو تم جانتے ہو وہ کیا کرے گا؟ وہ چپ کر کے اور کوئی بہانہ بنا کر وہاں سے کھسک جائے گا۔اس کے چہرے کا رنگ اڑ جائے گا اور وہ دوسروں سے جا کر کہے گا کہ صاحب پاگل ہو گیا ہے۔کیونکہ اس نے ایک ایسی بات کہی ہے جو انسانی طاقت میں ہی نہیں۔اسی طرح اگر گناہ دب ہی نہیں سکتا تھا تو خدا تعالیٰ نے قائن سے یہ کیوں کہا کہ تواس پر غالب آ سکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس کی قربانی کو رد کر دیا اور کہا کہ چونکہ تو نے اس اخلاص اور نیک نیتی سے قربانی نہیں کی جس اخلاص اور نیک نیتی سے قربانی قبول ہو سکتی ہے۔اس لئے میں تیری قربانی کو قبول نہیں کرتا۔مگر ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہہ دیا کہ اس کے یہ معنے نہیں کہ میں نے جو قربانی رد کر دی ہے وہ ہمیشہ کے لئے ردّ کر دی ہے تیرے لئے اب بھی موقعہ ہے کہ تو گناہوں پر غالب آ جائے اور میرا قرب حاصل کر لے۔گویا انسان کے لئے اپنی ذاتی جدوجہد سے گناہ پر غالب آنا ممکن تھا۔غرض آدم کا گناہ تو الگ رہا۔قائن کے اپنے گناہ کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیںجو دبائی نہ جا سکے۔اگر تو کوشش کرے تو گناہ پر غالب آ سکتا ہے اور میں تجھے یہی نصیحت کرتا ہوں کہ تو اس پر غالب آ۔اوپر کے حوالہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی قابیل کے متبع ہیں اور مسلمان ہابیل کے متبع۔کیونکہ عیسائی کفارہ کی معافی کے قائل ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوںکے اس لئے دشمن ہیں کہ قابیل کی طرح ان کی