تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 70
ایک کہتا ہے میں اس پیشگوئی کا مستحق ہوں اور دوسرا کہتا ہے میںاس پیشگوئی کا مستحق ہوں ایک سے ہم پوچھتے ہیں کہ تیرے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ تو اس پیشگوئی کا مصداق ہے؟ وہ کہتا ہے میرا باپ فلاں تھا اس کا باپ فلاں تھا اس کا باپ فلاں تھا اس کا باپ فلاں تھا اوراس کا باپ ابراہیم تھا۔دوسرے سے ہم پوچھتے ہیں کہ تمہارے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ تم ابراہیم کی نسل میں سے ہو وہ کہتا ہے میری ماں فلا ں تھی۔وہ فلاں سے بیاہی گئی تھی اور وہ شخص جس سے میری ماں بیاہی گئی تھی وہ فلاں کا بیٹا تھا وہ فلاں کا بیٹا تھا اور وہ ابراہیم کا بیٹا تھا۔کیا دنیا کا کوئی بھی معقول آدمی اس بات کو تسلیم کرے گا کہ وہ واقعہ میں ابراہیم کی اولاد میں سے ہے وہ کہتا ہے میرا باپ فلاں تھا ، دادا فلاں تھا، پردادافلاں تھا اور اس طرح چلتے چلتے وہ اپنا نسب نامہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میری ماں فلاں سے بیاہی گئی تھی اور وہ ابراہیم کی اولاد میں سے تھا۔ہر شخص اسی کی بات مانے گا جو اپنے باپ دادا کا نسب نامہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پہنچا رہا ہو اس کی بات کوئی نہیں مانے گا جو اپنی ماں کے شوہر کو ابراہیم کی اولاد میں سے قرار دے کر یہ سمجھ رہا ہو کہ میں بھی ابراہیم کی اولاد میں سے ہوں مسیح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی کیفیت ہے۔حضرت مسیح ؑکا جو نسب نامہ متی باب ۱ میں درج کیا گیا ہے اور جسے ’’ یسوع مسیح ابن دائود ابن ابراہام کا نسب نامہ ‘‘قرار دیا گیا ہے اس کے آخر میں یہ لکھا ہے کہ ’’ یعقوب سے یوسف پیدا ہوا یہ اس مریم کا شوہر تھا جس سے یسوع پیدا ہوا جو مسیح کہلاتا ہے۔‘‘ (انجیل متی باب ۱ آیت ۱۶) گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام تک مسیح کا نسب نامہ نہیں پہنچتا بلکہ یوسف کا نسب نامہ پہنچتا ہے جن سے حضرت مریم بیاہی گئی تھیں۔اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میرا باپ عبداللہ تھا وہ عبدالمطلب کا بیٹا تھا اور اسی طرح چلتے چلتے آپ اس نسب نامہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا دیتے ہیں (السیرة النبی لابن ہشام الجزء اول صفحہ ۱،۲)۔پس ہم عیسائیوں سے کہتے ہیں کہ تم جس وجود پر ابراہیم کی پیشگوئی کو چسپاں کر تے ہو اور جسے ابراہیم کی اولاد میں سے قرار دیتے ہو وہ تو صاف کہتا ہے کہ میری ماں مریم جس سے بیاہی گئی تھی وہ ابراہیم کی اولاد میں سے تھا میں ابراہیم کی اولاد میں سے نہیں۔لیکن ہم جس وجود پر اس پیشگوئی کو چسپاں کرتے ہیں یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ یقینی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔پھر تم اس پیشگوئی کا مصداق حضرت مسیح کو کس طرح قرار دیتے ہو۔باقی رہا یہ دعویٰ کہ میں دنیا کا نجات دہندہ ہوں یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کہا ہے۔