تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 65
’’ آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سوا اس کے جو آسمان سے اترا ‘‘ (یوحناباب ۳ آیت ۱۳) تو حنوک کا مقام اور بھی واضح ہو جاتا ہے اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حنوک کا آنا بھی آسمان سے ہی تھا تبھی وہ آسمان پر چلا گیا۔درحقیقت اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ آسمان پر جانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن پر بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ اپنا تصرف رکھتا ہے اور انہیں اپنی حفاظت اور پناہ میں لے لیتا ہے۔ایسے ہی لوگوں میں سے حنوک بھی تھے جنہوں نے بچپن سے ہی خدا تعالیٰ کے فضل اوراس کے رحم کے سایہ کے نیچے پرورش پائی اور بقول بائبل وہ بھی آسمان پر اٹھا لئے گئے۔پھر حنوک سے بھی زیادہ شاندار ذکر بائبل میں ملک صدق سالم کا موجود ہے اور انجیل بھی اس کی تائید کرتی ہے۔بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر جب عراق میں ظلم ہوئے اور ان کے چچا اور بھائیوں نے انہیں دکھ دیا تو خدا تعالیٰ نے ان سے کہا کہ یہاں سے ہجرت کر کے فلسطین چلے جائیں صرف حضرت لوط ؑآپ پر ایمان لائے تھے وہ لوط کو ساتھ لے کر چلے۔آپ کی بیوی بھی ساتھ تھیں۔راستہ میں مصر سے ہوتے ہوئے اور حضرت ہاجرہؓ سے شادی کرتے ہوئے فلسطین پہنچے۔اس ملک کے متعلق آپ کو بشارت مل چکی تھی کہ یہاں آپ کو جگہ دی جائے گی اور آپ کو ماننے والے یہاں پیدا ہو جائیں گے۔جب آپ فلسطین میں آ کر بس گئے اور اردگرد کے بادشاہوں نے دیکھا کہ ابراہیم ؑ لوگوں میں مقبول ہو رہا ہے تو انہوں نے آپ سے لڑائی کی۔آپ بھی ان کے مقابلہ میں نکلے اور انہیں شکست دی۔جب آپ انہیں شکست دے کر واپس آ رہے تھے تو ملک صدق سالم ایک بادشاہ آپ سے ملا۔وہ اپنے زمانہ میں بہت بڑا نیک اور بزرگ اور ولی اللہ سمجھا جاتا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے غنیمت کے اموال کا دسواں حصہ ملک صدق سالم کی خدمت میں پیش کیا۔ملک صدق سالم نے اس روپیہ کے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ روپیہ کی مجھے ضرورت نہیں جو آدمی آپ پکڑ لائے ہیں صرف وہ دے دئیے جائیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا میں یہ مال آپ کو ضرور دوں گا تا ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ کہیں کہ ملک صدق سالم کی وجہ سے میں دولت مند ہوا ہوں گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی اطاعت اور فرمانبردای کو قبول کیا۔(پیدائش باب ۱۴آیت ۱۸ تا ۲۴) انجیل میں اس واقعہ کو زیادہ تشریح کے ساتھ بیان کیا گیا ہے لکھا ہے:۔’’ یسوع ہمیشہ کے لئے ملک صدق کے طریقہ کا سردار کاہن بن کر ہماری خاطر پیشرو کے طور پر داخل ہوا ہے۔‘‘ (عبرانیوں باب ۶ آیت ۲۰)