تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 64

ایک ہی فعل سرزد ہوا ہے یہ کہاں کا عدل ہے اور کونسا انصاف اس کی اجازت دیتا ہے۔بہرحال عدل تو پھر بھی نہ رہا۔یا مثلاً جھوٹ بولنا یا لوگوں پر ظلم کرنا ہے اگر اس سے ہم لوگوں کو منع نہیں کرتے یا یہ نہیں کہتے کہ فلاں شخص نے جھوٹ بول کر یا ظلم کر کے گناہ کیا۔تو ان فعلوں کا مرتکب متقی اور پاک دل کس طرح ہو سکتا ہے؟ محض ہمارے نہ روکنے کی وجہ سے۔محض ہمارے جھوٹے کو گنہگار نہ کہنے کی وجہ سے یا ظالم کو گنہگار نہ کہنے کی وجہ سے یا چور کو گنہگار نہ کہنے کی وجہ سے وہ متقی کس طرح بن سکتا ہے ؟ اور اگر وہ گنہگار نہیں ا ور ایک دوسرا شخص انہی افعال کی وجہ سے گنہگار کہلاتا ہے تو عدل تو پھر بھی قائم نہ رہا۔یہاں تک تو اصولی اور فلسفیانہ طور پر میں نے بحث کی ہے اب میں یہ بتاتا ہوں کہ عملاً بھی بائبل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میںنیک لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں حنوک جو حضرت آدم کے پڑپوتے اور نوح کے پردادا تھے ان کے متعلق لکھا ہے۔’’حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور اس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں اور حنوک کی کل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور وہ غائب ہو گیا کیونکہ خدا نے اسے اٹھا لیا۔‘‘ (پیدائش باب ۵ آیت ۲۲ تا ۲۴) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حنوک خدا تعالیٰ کے ساتھ چلتے رہے۔اس کے یہ معنے تو ہو نہیں سکتے کہ حنوک اور خدا دونوں سفر پر اکٹھے رہے اور جس طرح لوگوں کو شوق ہوتا ہے کہ چلو امریکہ دیکھ آئیں یا کسی اور ملک کی سیر کر آئیں۔اسی طرح وہ تین سو سال تک خدا تعالیٰ کے ساتھ سیریں کرتے رہے۔یہ بائبل کا ایک محاورہ ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ حنوک نیک انسان تھا اور خدا ئی صفات اس نے اپنے اندر پیدا کر لی تھیں یعنی جو کام خدا تعالیٰ کرتا ہے وہی کام حنوک کیا کرتا تھا۔وہ بڑا رحم کرنے والا تھا ، وہ بڑا حسن سلوک کرنے والا تھا ، وہ ظلم نہیں کرتا تھا ،وہ ہر شخص سے پیار اور محبت سے پیش آتا تھا ، وہ عدل اور انصاف سے کام لیتا تھا ، وہ غرباء کی خبرگیری کیا کرتا تھا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی یہ صفات کہ وہ رب ہے رحمٰن ہے رحیم ہے مالک ہے غفور ہے یہ ساری صفات اس میں بھی پائی جاتی تھیں اور پھر وہ آسمان پر اٹھا لیا گیا۔گویا مسیح کے ساتھ اسے کلی مشابہت تھی اور ویسا ہی مقام حنوک کو حاصل تھا جیسے مسیح ؑ کو حاصل ہوا بلکہ مسیح کو تو ساری زندگی تیس سال ملی مگر حنوک ۳۶۵سال تک زندہ رہا اور تمام عمر اس نے نیکی اور تقویٰ میں بسر کی۔اس سے پتہ لگا۔کہ حنوک جو آدم کا پڑپوتا اور نوح کا پڑدادا تھا وہ اتنا نیک تھا کہ گویا خدا کی مثال تھا اور پھر وہ زندہ آسمان پراٹھا لیا گیا۔اس کے ساتھ جب ہم حضرت مسیح کا یہ حوالہ ملاتے ہیں کہ