تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 63
ہے کہ شریعت لعنت ہے یعنی شریعت میں ایسے احکام دئیے گئے ہیں جن پر لوگ عمل نہیں کر سکتے اور وہ کہتی ہے کہ اسی وجہ سے مسیح نے شریعت اڑا دی۔لیکن سوال یہ ہے کہ موسیٰ ؑسے پہلے بھی شریعت اڑی ہوئی تھی اور انسان کی نجات کے لئے کسی کفارہ کی ضرورت نہیں تھی بلکہ فطرت کے مطابق عمل کر کے وہ نجات پا جاتا تھا یا فطرت کے خلاف عمل کر کے سزا پا لیتا تھا۔پھر اب کسی کفارہ کی کیا ضرورت ہے؟ گویا اصل مسئلہ صرف اتنا بنا کہ موسیٰ ؑ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے شریعت بھیج کر لوگوں کو مصیبت میں ڈال دیا۔مگر اس کا علاج کفارہ نہیں تھا۔اصل علاج صرف اتنا تھا کہ شریعت کو منسوخ کر دیا جاتا۔یہ چاہے کتنی ہی بیوقوفی کی بات ہوتی مگر بہرحال جہاں تک علاج کا سوال ہے اصل علاج صرف اتنا تھا۔کیونکہ رومیوں کے حوالہ سے صاف ماننا پڑتا ہے کہ موسیٰ ؑ سے پہلے شریعت نہیں تھی اور بوجہ شریعت نہ ہونے کے لوگوں کو شریعت کے ماتحت گنہگار نہیں قرار دیا جاسکتا تھا اور جب شریعت کے مطابق وہ گنہگار نہیں تھے تو شریعت انہیں سزا بھی نہیں دلا سکتی تھی اور پھر رومیوں کے حوالہ کے مطابق ایسے لوگ بھی تھے جو گنہگار نہیں تھے یعنی فطرت کے گنہگار بھی نہیں تھے۔ان سارے حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جو خرابی پیدا ہوئی وہ آدم ؑ کے گناہ کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ نعوذ باللہ! خدا تعالیٰ کی اس غلطی سے ہوئی کہ اس نے موسیٰ ؑ کے ذریعہ ایک شریعت نازل کر دی جب لوگ اس پر عمل نہ کر سکے اور ان کی سزا کا سوال آیاتو اللہ تعالیٰ نے یسوع مسیح کو بھیج کر شریعت کو ہمیشہ کےلئے اڑا دیا۔حالانکہ اس کے لئےیسوع مسیح کو بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی جس خدا نے موسیٰ ؑ کو شریعت دی تھی وہی یوشع ؑ کو کہہ دیتا کہ چونکہ لوگ اس پر عمل نہیں کر سکتے اس لئے میں اسے منسوخ کر تا ہوں۔پھر ہم پوچھتے ہیں کہ اگر گناہ ہوتا ہے مگر محسوب نہیں ہوتا تو پھر خدا تعالیٰ کا عدل کہاں رہا۔کفارہ کی دوسری بنیاد عدل پر رکھی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ بنی نوع انسان کو گناہوں کی سزا نہ دے تو وہ عادل نہیں رہتا مگر سوال یہ ہے کہ صرف نام بدل دینے سے تو کوئی چیز اپنی ماہیت سے الگ نہیں ہو سکتی۔ایک چور چوری کر رہا ہے اور ہم کہتے ہیں اس کو کوئی سزا نہیں ملے گی کیونکہ ابھی موسیٰ ؑ کی شریعت نازل نہیں ہوئی۔اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص چوری کرتا ہے اور ہم کہتے ہیں یہ دائمی جہنم میں جائے گا کیونکہ موسٰی کی شریعت اس کو گنہگار قرار دیتی ہے۔حالانکہ چیز ایک ہے اس نے بھی اسی طرح مال اٹھایا ہے جس طرح پہلے نے اٹھایا ہے۔مگر ایک کے فعل کو ہم اس لئے جرم قرار نہیں دیتے۔کہ موسیٰ ؑ کی شریعت ابھی نازل نہیں ہوئی۔اور ایک کو ہم اس لئے جرم قرار دے دیتے ہیں کہ موسیٰ ؑ کی شریعت نازل ہو چکی ہے۔ایک کو ہم چھوڑ دیتے ہیں اور دوسرے کو ہم پکڑ لیتے ہیں۔حالانکہ دونوں سے