تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 62

اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھے ہوئے جاتے ہیں۔کس طرح ہمیںپولیس کا ڈر ہوتا ہے کس طرح قدم قدم پر ہمیں پکڑے جانے کا خوف ہوتا ہے مگر ہم تمام مصیبتوں کو برداشت کرنے کے بعد جاتے ہیں اور اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال کر روپیہ لاتے ہیں۔بھلا ہم سے زیادہ حلال کمائی اور کسی کی ہو سکتی ہے؟ آ پ فرماتے تھے یہ سن کر میں نے جھٹ اسے اور باتوں میں لگا دیا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد اس سے پوچھا کہ تم چوری کس طرح کرتے ہو؟ وہ کہنے لگا ہم سات آٹھ آدمی مل کر چوری کرتے ہیں ایک گھر کی ٹوہ لگانے والا ہوتا ہے جو بتاتا ہے کہ فلاں گھر میں اتنا مال ہے ایک سیندھ لگانے کا مشّاق ہوتا ہے ایک باہر کھڑا پہرہ دیتا رہتا ہے دو آدمی گلی کے سروں پر کھڑے رہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ادھر آئے تو وہ فوراً بتا دیں۔ایک آدمی اندر جانے والا ہوتا ہے اور ایک آدمی اچھا لباس پہن کر دور کھڑا ہوتا ہے جس کے پاس چوری کا تمام مال ہم جمع کرتے جاتے ہیں تاکہ اگر کوئی د یکھ بھی لے تو شبہ نہ کرے بلکہ سمجھے کہ یہ کوئی شریف آدمی ہے جو اپنا مال لئے کھڑ اہے باقیوں نے اپنے جسم پر تیل ملا ہوا ہوتا ہے اور وہ لنگوٹ باندھ کر اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔پھر ایک سنار ہوتا ہے جس کو ہم تمام زیورات دے دیتے ہیں وہ سونا گلا کر ہمیں دے دیتا ہے اور ہم سب آپس میں مل کر تقسیم کر لیتے ہیں۔جب وہ یہاں تک پہنچا تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میںنے کہا اگر وہ سنار سارامال لے جائے اور تمہیں کچھ نہ دے تو پھر تم کیا کرو؟ اس پر وہ بے اختیار کہنے لگا۔کیا وہ اتنا بے ایمان ہو جائے گا کہ دوسروں کا مال کھا جائے؟ میں نے کہا معلوم ہوتا ہے تمہاری نگاہ میں بھی ایمان اور بے ایمانی میں کچھ فرق ضرور ہے اور تمہاری فطرت سمجھتی ہے کہ فلاں فعل بے ایمانی ہے اور فلاں فعل نیکی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام بھی یہی فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی فطرت پر امتحان ہو جائے گا اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہے گا کہ تم نے وہ نماز کیوں نہیں پڑھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ یہ کہے گا کہ تمہاری فطرت میں کسی نہ کسی ہستی کی عبادت کا مادہ رکھا گیا تھا تم یہ بتائو کہ اس فطرت کی آواز کے مطابق تم نے عبادت کی تھی یا نہیں ؟یا مثلاً جھوٹ ہے ، چوری ہے، ڈاکہ ہے۔دوسرے کا مال تو انسان کھا لیتا ہے لیکن جب اس کا اپنا مال کوئی شخص اٹھا لیتا ہے تو کہتا ہے فلاں بڑا بے ایمان ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کی چیز کھانا یہ بھی بے ایمانی سمجھتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ شریعت کے مطابق اس کو مجرم نہیں کہا جائے گا لیکن فطرت کے مطابق وہ مجرم ہوگا اور اسے سزا دی جائے گی پس یہ مسئلہ تو ٹھیک ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ درست ہے تو پھر کفارہ کہاں رہا؟ انجیل اگر یہ کہتی کہ فطرت انسانی لعنت ہے تو پھر یہ مسئلہ قائم رہ جاتا لیکن انجیل یہ کہتی ہے کہ شریعت لعنت ہے (گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳) یعنی وہ جو انسان کا نفس کسی فعل کو گناہ قرار دیتا ہے انجیل اس کے خلاف نہیں بلکہ انجیل یہ کہتی