تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 61

بری ہے وہ بہرحال بری ہو گی۔مثلاً قرآن کریم نازل ہوا اور اس نے کہا کہ ظلم نہ کرو۔یہ بہت بڑا گناہ ہے اور ہم نے سمجھ لیا کہ ظلم کرنا اچھا نہیں لیکن اگر قرآن کریم میں یہ حکم نازل نہ ہوتا اور یہ نہ کہا جاتا کہ ظلم نہ کرو۔تو پھر بھی ظلم کرنے والا ایک برے فعل کا مرتکب ہوتا۔یہی حال اور برائیوں کا ہے شریعت نازل نہ ہوتی تو پھر بھی برائیاں، برائیاں ہی رہتیں۔فرق صرف اتنا ہوتا کہ ایک فعل کودس بیس آدمی برا کہتے اور دس بیس آدمی برا نہ کہتے۔پچاس ساٹھ کہتے کہ یہ نیکی ہے اور پچاس ساٹھ کہتے یہ نیکی نہیں۔بہرحال احساس برائی کا اور احساس نیکی کا یہ شریعت کے ساتھ تعلق نہیںرکھتا فطرت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔یہی چیز پولولس پیش کرتا ہے کہ دنیا میںگناہ تھا لیکن جہاں شریعت نہیں وہاں گناہ محسوب نہیں ہوتا تھااور یہ نہیں سمجھا جاتا تھا کہ وہ گناہ ہے ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر کسی موقعہ پر شریعت نہ ہو تو ہر برا فعل گناہ تو ہوگا لیکن وہ گناہ شریعت کے مطابق محسوب نہیں ہوگا۔مثلاً ایک جگہ پر شریعت موجود نہیں اور لوگ نمازیں نہیں پڑھتے۔فرض کرو وہ جنگلوں میںرہتے ہیں یا دور پہاڑوں پر رہتے ہیں اور انہیں پتہ نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو چکے ہیں تو خدا تعالیٰ ان سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے اسلام کی بتائی ہوئی نماز کیوں نہیں پڑھی یا تم نے اسلام کا بتایا ہوا روزہ کیوں نہیں رکھا۔کیونکہ اس نماز اور روزہ کا تو انہیںکچھ پتہ ہی نہ تھا۔حدیثوں میں صاف طور پر آتا ہے کہ قیامت کے دن چار قسم کے لوگ شرعی مؤاخذہ سے محفوظ ہوں گے۔اول مادر زاد بہرے۔دوم پاگل۔سوم پیر فرتوت۔چہارم وہ لوگ جن تک اسلام کی تبلیغ نہیں پہنچی اور وہ اسی حالت میں فوت ہو گئے۔ایسے لوگوں کے امتحان کے لئے ان کی طرف کوئی اور رسول مبعوث کیا جائے گااگر وہ اسے مان لیں گے تو نجات پا جائیں گے اور اگر نہیں مانیں گے تو سزا پائیں گے (روح المعانی جلد ۴ زیر آیت و ماکنا معذبین حتی نبعث رسولا) اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم سے استدلال کر کے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ بعض لوگوں کا محاسبہ فطرت کے مطابق ہو گا(حقیقة الوحی صفحہ ۱۸۶) یعنی قرآن کریم کی شریعت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا محاسبہ نہیں ہوگا۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت کے اندر جو باتیں رکھی ہیں ان کے ماتحت ان کا محاسبہ ہوگا۔انسانی فطرت بھی بعض چیزوں کو گناہ قرار دیتی ہے بغیر اس کے کہ شریعت انسان کی راہنمائی کرے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک چور آپ کے پاس علاج کے لئےآیا۔آپ نے اسے نصیحت کی کہ تم لوگوں کا مال لوٹ لیتے ہو یہ بہت بری بات ہے تمہیں اس قسم کی حرام کمائی سے بچنا چاہیے۔اس نصیحت کو سن کر وہ کہنے لگا واہ مولوی صاحب آپ نے بھی مولویوں والی ہی بات کی۔بھلا ہمارے جیسا بھی کوئی حلال مال کماتا ہے آپ تھوڑی دیر نبض پر ہاتھ رکھ کر فیس وصول کر لیتے ہیں اور ہم سردی کے موسم میں ٹھٹھرتے ہوئے اور