تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 60
بعد ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جنہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا لیکن لطیفہ یہ ہے کہ چونکہ یہ مسئلہ حضرت مسیح کی صلیب کے واقعہ کے بعد جب لوگوں کی طرف سے اعتراضات ہوئے تو گھبراہٹ میں جلدی سے بنا لیا گیا تھا۔اسی لئے حواری کبھی کچھ کہہ دیتے تھے اور کبھی کچھ مثلاً یہی فقرہ جس کو اوپر درج کیا گیا ہے صاف طور پر بتاتا ہے کہ آدم سے لے کر موسیٰ تک ایسے کئی لوگ گزرے ہیں جنہوں نے گناہ نہیں کیا گویا آدم کے گناہ کرنے کے باوجود اس کی اولاد کو ورثہ میں گناہ نہیں ملا۔لیکن اسی کتاب کے اسی باب کی بارہویں آیت میں لکھا ہے کہ ’’ یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اس لئے کہ سب نے گناہ کیا ‘‘ یعنی آدم کو گناہ کی سزا موت ملی۔اور آدم کی وجہ سے موت سب آدمیوں میں پھیل گئی۔اس لئے کہ سب نے گناہ کیا۔’’کیونکہ شریعت کے دئیے جانے تک دنیا میں گناہ تو تھا مگر جہاں شریعت نہیں وہاں گناہ محسوب نہیں ہوتا۔‘‘ (رومیوں باب ۵ آیت ۱۳) گویا پولوس ایک ہی باب میں دو آیتیں لکھتا ہے پہلے تو یہ لکھتا ہے کہ چونکہ سب نے گناہ کیا اس لئے موت سب آدمیوں میں پھیل گئی (کیونکہ موت کے متعلق ان کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ گناہ کے نتیجہ میں آئی ہے) لیکن آیت ۱۴ میں جا کر کہہ دیا کہ ’’ موت نے ان پر بھی بادشاہی کی جنہوں نے اس آدم کی نافرمانی کی طرح جو آنے والے کا مثیل تھا گناہ نہ کیا تھا۔‘‘ لیکن اب انہیں ایک اور مشکل پیش آگئی اور وہ یہ کہ مسیحیوں کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شریعت شروع ہوئی ہے پہلے نہیں۔جب پہلے کوئی شریعت ہی نہیں تھی تو گناہ کہاں تھا؟ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ ’’ شریعت کے دئیے جانے تک دنیا میں گناہ تو تھا مگر جہاں شریعت نہیں وہاں گناہ محسوب نہیں ہوتا۔‘‘ (رومیوں باب ۵ آیت ۱۳) گویا ان کے نزدیک شریعت اور گناہ دو الگ الگ چیزیں ہیں اور یہ بالکل درست ہے اس میں ہم بھی ان سے متفق ہیں شریعت الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ اس اس طرح نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہو جائے گا اور گناہ تب ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی ایسے فعل کا ارتکاب کرتا ہے جس سے شریعت نے بنی نوع انسان کو بصراحت روکا ہو ورنہ شریعت کے نزول سے پہلے گناہ محسوب نہیں ہوتا پس اتنی بات تو درست ہے۔لیکن خواہ شریعت موجود نہ ہو جو چیز