تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 566

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ اور( اس دن) زندہ اور قائم رہنے اور قائم رکھنے والے (خدا) کے سامنے سب بڑے لوگ (ادب سے) جھک ظُلْمًا۰۰۱۱۲ جائیںگے۔اور جوظلم کرےگا وہ ناکام رہےگا۔حلّ لُغَات۔وَجْہٌ کے معنے ہوتے ہیں سَیِّدُالْقَوْمِ۔قوم کا سردار (اقرب) القَیُّوْمُ کے معنے ہوتے ہیں الْقَائِمُ الْحَافِظُ لِکُلِّ شَیْءٍ وَ الْمُعْطِیْ لَہٗ مَا بِہٖ قِوَامُہٗ (مفردات ) یعنی ایسا وجود جو خود قائم ہے اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے۔(مفردات) تفسیر۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آخر وہ وقت آجائےگا جبکہ سب بڑے بڑے لوگ اور قومیں اور حکومتیں خدا تعالیٰ کے سچے دین کے سامنے جھک جائیں گی اور اسلام میں داخل ہوجائیںگی۔وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخٰفُ اور جس نے وقت کی ضرورت کے مطابق عمل کئے ہوںگے اور وہ مومن بھی ہوگا وہ نہ تو کسی قسم کے ظلم سے ڈرےگا ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا۰۰۱۱۳ اور نہ کسی قسم کی حق تلفی سے حل لغات۔ھَضْمٌ ھَضَمَ کا مصدر ہے۔اور ھَضَمَ الشَّیْ ءَ کے معنے ہوتے ہیں کَسَرَہٗ اس کو توڑ دیا اور ھَضَمَ فُلَانًا کے معنے ہوتے ہیں ظَلَمَہٗ وَ غَضَبَہٗ اس پر ظلم کیا اور اس کی اشیا ء اور جائیداد پرقبضہ کرلیا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اس زمانہ کے آنے سے پہلے وہ زمانہ تھاکہ مسلمان ظلم اور حق تلفی سے ڈرتے تھے مگر پھر وہ زمانہ آجائے گا جبکہ خود عیسائی بھی مسلمان ہوجائیںگے اور مسلمان ظلم اور حق تلفی سے محفوظ ہوجائیںگے۔