تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 565
پیشگوئی پڑھیں گے تو کہیں گے کہ قرآن تو یہ کہتاہے کہ عیسائی حکومتیں تباہ ہوجائیں گی۔لیکن اگر یہ صحیح ہے تو ہمارے ڈیوک اور ایمپرراور کنگ کہاں جائیںگے ؟ اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس تباہی کے آنے سے پہلے ہی ان کو ختم کر دیا جائے گا۔اور تمام ملکوں میں ڈیماکرسی قائم ہوجائے گی اور اس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ آہستہ آہستہ لوگ قرآن لانے والے کی آواز سننے لگ جائیںگے جس کی تعلیم میں کوئی کجی نہیں۔او رحمن خدا کی آواز بلند ہونے لگ جائے گی اور شرک کی آواز دھیمی پڑنے لگ جائے گی اور یا تو ترقی کے لیئے عیسائی ہونا بڑی سفارش سمجھا جاتاتھا اور یا اس زمانہ میں ترقی کے لئے مسلمان ہونا سفارش سمجھا جائے گا۔مسلمان ہونے کانتیجہ ہم نے اس بات سے نکالا ہے کہ اس آیت میںکہا گیا ہے کہ شفاعت اسی کوفائدہ دے گی جس کے لئے رحمن خدا اجازت دے گا۔اور جس کے متعلق بات کہنے پروہ راضی ہوگا اور قرآن کریم میں مسلمانوں کے متعلق آتاہے کہ ’’رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ‘‘(المجادلہ:۲۳) کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اوروہ اللہ سے راضی ہو گئے۔پس وَ رَضِيَ لَهٗ قَوْلًا میں مسلمانوں کا ذکر ہے کہ اس وقت مسلمان ہونا ہی ترقی کا سب سے بڑا معیار سمجھا جائےگا۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ وہ جو کچھ ان کے آگے آنے والا ہے اس کو بھی جانتاہے اور جوکچھ ان کے پیچھے گذر چکا ہے اس کو بھی جانتاہے اور عِلْمًا۰۰۱۱۱ وہ اپنے علم کے ذریعہ سے اس (یعنی خدا)کا احاطہ نہیںکرسکتے۔تفسیر۔اس جگہ دعویٰ کی گیا ہے کہ یہ پیشگوئی ضرور پوری ہوکر رہے گی کیونکہ یہ خدائے علیم کی طرف سے ہے۔