تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 564
وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًاۙ۰۰۱۰۶ اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ ان کو میرارب اکھاڑ کر پھینک دےگا۔اور ان فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ۰۰۱۰۷لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ کو ایک ایسے چٹیل میدان کی صورت میںچھوڑدے گا کہ نہ تو تو اس میں کوئی موڑ دیکھے گا اور نہ کوئی اونچائی اَمْتًاؕ۰۰۱۰۸يَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ اس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چل پڑیں گے جس کی تعلیم میںکوئی کجی نہ ہوگی او ر رحمٰن( خدا کی آواز) خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا۰۰۱۰۹ کے مقابلہ میں( انسانوں کی) آواز یں دب جائیں گی۔پس تو سوائے کھسر پسر کے کچھ نہ سنےگا اس دن شفاعت يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ سوائے اس کے جس کے حق میں شفاعت کرنے کی اجازت رحمٰن( خدا)دے گا اور جس کے حق میں بات رَضِيَ لَهٗ قَوْلًا۰۰۱۱۰ کہنے کو وہ پسند کرے گا کسی کو نفع نہ دے گی۔حلّ لُغَات۔یَنْسِفُ نَسَفَ سے مضارع کاصیغہ ہے اور نَسَفَ کے معنے ہوتے ہیں قَلَعَہُ مِنْ أَصْلِہِ جڑھ سے اکھیڑ دیا۔(اقرب)چنانچہ کہتے ہیں نَسَفَ الرَّیْحُ الشَّیْ ءَ یعنی ہوانے چیزوں کو جڑوںسے اکھیڑدیا۔الجبل کے معنے ہوتے ہیں کُلُّ وَتِدٍ لِلْاَرْضِ، عَظُمَ وَطَالَ۔پہاڑ سَیِّدُ الْقَوْمِ وَعَالِمُھُمْ۔قوم کاسردار اور عالم (اقرب) الاَمْتُ کے معنے ہیں الْمَکَانُ المُرْتَفِعُ بلند مکان (اقرب) ھَمْسٌ کے معنے ہیںاَلصَّوْتُ الْخَفِیُّ۔بالکل نیچی آواز (اقرب) تفسیر۔اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیاہے کہ جب نیلی آنکھوں والے یعنی یوروپین لوگ یہ