تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 557
تفسیر۔اس جگہ حضرت ہارون علیہ السلام نے حقیقی عذرپیش کیاہے اور بتایا ہے کہ میں نے ان لوگوں کوروکا تو تھا لیکن زیادہ سختی اس لئے نہیںکی کہ کہیں یہ مقابل پر کھڑے نہ ہوجائیںاور تویہ الزام نہ دے کہ قوم میں بغاوت پیدا کردی اور میرے حکم کا انتظار نہ کیا۔یا تو نے میرے اس حکم کاکہ امن رہے خیال نہیںرکھا رقب کے دونوں معنے ہوتے ہیں رَقَبَ کے معنے اِنْتَظَرَکے بھی ہوتے ہیں او ر رَقَبَ کے معنے حَرَسَ کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں اَنَااَرْقُبُ لَکَ ھٰذِۃِ اللَّیْلَۃ آج رات میں تیری نگہبانی کروںگا پس حضرت ہارون ؑ کہتے ہیںکہ میں نے صرف اس خیال سے ان پرزیادہ سختی نہیں کی کہ مبادا آپ یہ کہہ دیں کہ تونے قوم میں تفرقہ پیدا کردیا اور میرے حکم کاانتظار نہیں کیا۔یا تو نے میرے اس حکم کاکہ امن رکھاجائے خیال نہیںرکھا۔بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیںکہ نبی کسی دوسرے نبی کامطیع نہیں ہو سکتاوہ صرف مطاع ہوتاہے (محمدیہ پاکٹ پک صفحہ ۱۸۲)۔حالانکہ یہ تو درست ہے کہ نبی مطاع ہوتاہے مگر ان لوگوں کا جن کی طرف وہ مبعوث کیا جاتا ہے۔یہ نہیںکہ وہ اور کسی کامطیع نہیں ہوتا۔اس طرح تو کہناپڑےگاکہ نعوذبااللہ نبی خدا تعالیٰ کا بھی مطیع نہیںہو سکتا حالانکہ یہ بات بالبداہت باطل ہے انہی آیات کودیکھ لو۔حضرت ہارونؑ اپنی قوم کو کہتے ہیں کہ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ وَ اَطِيْعُوْۤا اَمْرِيْتم میری اطاعت اختیار کرو اور میرے حکم کی نافرمانی مت کرو گویا انہوں نے اپنے آپ کو قوم کا مطاع قرار دیا۔مگر دوسری طرف جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پہاڑ سے واپس تشریف لائے تو انہوںنے حضرت ہارون ؑسے کہا کہ اَفَعَصَيْتَ اَمْرِيْکیاتو نے میرے حکم کی نافرمانی کی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون ؑاپنی قوم کے تو مطاع تھے لیکن حضرت موسیٰ ؑکے مطیع تھے اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ میں نے صرف اس خیال سے ان لوگوں پرزیادہ سختی نہیں کی کہ کہیں آپ مجھے یہ الزام نہ دیں کہ میں نے آپ کے حکم کاانتظار نہ کیا۔او ربنی اسرائیل میں تفرقہ پیدا کردیا۔گویا وہ ہر اہم بات میں ان کے حکم کے منتظر رہتے تھے اور اس بات کاخیا ل رکھتے تھے کہ کہیں موسیٰ ؑکی اطاعت میں کوئی فرق نہ آجائے۔یہ بات بتاتی ہے کہ عوام الناس کایہ خیال کہ نبی کسی دوسرے نبی کا مطیع نہیں ہوتا قرآن کریم کےرو سے بالکل غلط ہے۔