تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 539

اور دانیال ۲ میں ’’من ‘‘ کا لفظ سوال کے لئے استعمال ہوا ہے لیکن وہاں سوال جانداروں کے متعلق ہے۔پس معلوم ہوا کہ اول تو تورات کے نزول کے وقت من کا لفظ سوال کے لئے استعمال نہیںہوتاتھا۔دوم بنی اسرائیل کی جلاوطنی کے زمانہ سے جب یہ لفظ سوال کے لئے استعمال ہونے لگا اس وقت بھی یہ لفظ قاعدہ کے طور پر جاندار چیزوں کے متعلق سوال کرنےکے لئے استعمال ہوتاتھا نہ یہ کہ بے جان چیزوں کے متعلق (معلوم ہوتاہے اس وقت بنی اسرائیل عربوں سے خلط ملط کرنے لگ گئے تھے اور عربی زبان کے صحیح محاورات ان میں استعمال ہونے لگ گئے تھے )اور استثناء کے طورپر اگر کہیں اس کے خلاف ا ستعمال ہواہے تو اسے بطور سند پیش نہیںکیاجاسکتا۔لہٰذا خروج باب۱۵ آیت ۱۶ میں ’’من ‘‘ کے معنے کیا ہے کے کرنا اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ’’من ‘‘ کو من اس لئے کہاگیا تھا کہ بنی اسرائیل نے اسے پہچاننے کی وجہ سے من کے لفظ سے اس کے متعلق سوال کیا تھا درست نہیں۔یہ غلط فہمی یوروپین مصنفین کو اس لئے ہوئی ہے کہ وہ عبرانی جیسی مردہ زبان کی تحقیق کرتے وقت اس امر کو نظر انداز کردیتے ہیں۔کہ عبرانی کی ماں عربی زبان زندہ موجود ہے۔عبرانی الفاظ کی حقیقت کے سمجھنے میں جب مشکلات ہوں تو انہیں عربی زبان سے مدد لینی چاہیے۔اس موقعہ پر اگر وہ عربی سے مدد لیتے تو انہیں معلوم ہوجاتاکہ عربی زبان میں ما بے جان کے لئے اور من جاندار کے لئے استعمال ہوتاہے اور پھر اس علم کی روشنی میںبائیبل کے الفاظ کو دیکھتے تو ان پر واضح ہوجاتاکہ یہی قاعدہ بائیبل کی عبرانی میں بھی مد نظر رکھا گیا ہے اور اس طرح اس لغزش سے بچ جاتے مگر اتنی تعریف ان کی ضرور کرنی پڑتی ہے کہ انہوں نے یہ فرق ضرور محسوس کیاہے کہ مَن کا لفظ سوال کے معنوں میں جلاوطنی کے زمانہ اور اس کے بعد استعمال ہوا ہے (دیکھو انسائکلوپیڈیا ببلیکا جلد ۳ زیر لفظ منا ) پہلے نہیں۔اور اس کی بنا پر بعض نے من کے معنے استفہام کے سوا کچھ اورلینے کی کوشش کی ہے چنانچہ جیساکہ میںلکھ چکا ہوں جارج ایبرز نے اس لفظ کو قطبی لفظ منو سے ماخوذ قرار دیا ہے جس کے معنے خوراک کے ہیں۔اسی طرح جی سنیس(JESENIUS )نے اپنی لغت میں من کی وجہ تسمیہ عربی لفظ من سے بیان کی ہے جس کے معنے فضل اور احسان کے ہیں اس مصنف کے خیال کے مطابق اس چیز کانام من اس لئے رکھا گیا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوئی تھی اور جہاں تک میںسمجھتاہوں یہ وجہ زیادہ قرین قیاس ہے۔اب میں اس سوال کو لیتاہوں کہ من کیا چیز تھی ؟بائیبل سے معلوم ہوتاہے کہ وہ شبنم کے ساتھ گرتی تھی اور سفید سفید گول دھنئے کے بیجوں کی طرح ہوتی تھی اور لوگ اسے چکی میں پیس کر یا اوکھلی میں کوٹ کر توے پر پکاتے تھے یا پھلکیاں بناتے تھے اور اس کا مزہ تازہ تیل کا ساتھا۔جب دھوپ نکل آتی تو من پگل جایا کرتاتھا۔